حج سے واپس آ نے کے بعد رشتے دار حاجی کی دعوت کرتے ہیں ا ور اسے کوئی تحفہ پیش کرتے ہیں، وہ دعوت قبول کرنا اور تحفہ لینا حاجی کے لئے جائز ہے یا نہیں ؟یا پیش کرنےوالے کو واپس کر دیا جائے؟
واضح ہو کہ مسلمانوں کا بغیر کسی فخر و نمود اور التزام کے آپس میں تحفہ کا لین دین کرنا اور دعوت و اکرام کرنا شرعاً مطلوب و مستحسن ہے، ایسا کرنے کو احادیثِ مبارکہ میں دلوں میں محبت کا ذریعہ بتلایا گیا ہے، لہٰذا حج سے لوٹنے والے کسی رشتہ دار یا دوست کی دعوت کرنا یا تحائف پیش کرنا شرعاً درست ہے، البتہ اس دعوت و اکرام کو اس طور پر لازم سمجھنا کہ نہ کرنے والوں پر طعن و تشنیع کی جائے اور ناراض ہوا جائے، یہ رویہ درست نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی اعلاء السنن: فحکم الدعوۃ للختان وسائر الدعوات غیر الولیمۃ؛ انھا مستحبۃ لما فیھا من إطعام الطعام والاجابۃ الیھا مستحبۃ غیر واجبۃ الخ ( ج 12 ص 17 ط: ادارۃ القرآن)۔
وفی رد المحتار: وهذه الأفعال كلها للسمعة والرياء فيحترز عنها لأنهم لا يريدون بها وجه الله تعالى. الخ ( ج 2 ص 241 ط: سعید )۔