السلام علیکم !میری شادی کی بات ایک سال سے چل رہی تھی اور میں نے ابھی تک ہونے والی بیوی( لڑکی )کو اصل حالت میں نہیں دیکھا، نہ بات کی اس سے،صرف ایک سال پرانی تصویر دیکھی ہے، اس کی حجاب نقاب کی حالت میں ، موبائل فون پر ،بہت بے چینی اور اضطراب ہے مجھے کیا میں اپنی والدہ کی موجودگی میں اس کو مل سکتا ہوں ایک دفعہ؟ جب کے اس نے ہر بار ملنے اور میرے سامنے آنے سے انکار کیا ہے ،اب ہمارا نکاح ایک ہفتے بعد ہے۔براہ مہربانی قرآن اور شریعت کی رو سے اس کا حل عنایت فرمائیں۔والسلام!
جی ہاں! صورتِ مسئولہ میں سائل ایک آدھ بار اپنی منگیتر کو دیکھ سکتا ہے، تاہم سائل کے لئے نکاح ہوجانے سے قبل اس کے ساتھ گپ شپ کرنا اور بے تکلف ہوجانا جائز نہیں، جس سے اجتناب لازم ہے۔
کما فی رد المحتار: ولو أراد أن يتزوج امرأة فلا بأس أن ينظر إليها، وإن خاف أن يشتهيها لقوله - عليه الصلاة والسلام - للمغيرة بن شعبة حين خطب امرأة «انظر إليها فإنه أحرى أن يؤدم بينكما» رواه الترمذي والنسائي وغيرهما ولأن المقصود إقامة السنة لا قضاء الشهوة اهـ والأدوم والإيدام الإصلاح والتوفيق إتقاني. الخ ( کتاب الحظر والاباحۃ ج 6 ص 370 ط: سعید )۔