السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا عورت اپنے شوہر سے طلاق کے بعد اپنی ضروریات کے لیے خرچہ لے سکتی ہے؟ جبکہ اس کے بھائی بہن بھی ہوں اور وہ تعاون نہ کرتے ہوں ، گھر میں نہ رہنے دیتے ہوں تو کیا عورت اس بندے سے پیسے لے سکتی ہے ؟
اگر کسی قسم کے فتنے اور بدگمانیاں پیدا ہونے کا اندیشہ نہ ہو تو شرعی پردے کا لحاظ رکھتے ہوئے، مرد کیلئے اپنی مطلقہ مجبور اور نادار بیوی کیساتھ مالی تعاون کرنے اور عورت کیلئے اس سے پیسے وغیرہ وصول کرنے میں حرج نہیں، تاہم اگر مذکور عورت کا کوئی ذریعہ آمدن نہ ہو اور اسکے بہن بھائیوں کی مالی حیثیت اور استطاعت ہو تو ایسی صورت میں اپنی بہن کے ضروری خرچ و اخراجات پورے کرنا ان بہن بھائیوں کی شرعی اور اخلاقی ذمہ داری ہے انہیں اپنی اس ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے اپنی بہن کیساتھ تعاون کا اہتمام کرنا چاہیئے۔
کما قال اللہ تعالی: وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَ يَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا الآیۃ (آیتـ 19سورۃ النساء)
وقولہ تعالی: وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ الآیۃ (آیتـ 2 سورۃ المائدۃ)
وفی سنن الترمذی: عن عائشة، قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: خيركم خيركم لأهله وأنا خيركم لأهلي، وإذا مات صاحبكم فدعوه اھ (6/192)