السلام علیکم
جی پلیز بتائیں کہ ایک عورت جس کی عمر تقریباً 45 سال ہے، اس کا خاوند کا فی دیر سے بیمارتھا وہ عورت اپنے بچوں کی پرورش خود محنت مزدوری کر کےلوگوں کے گھروں میں کام کر کے کر رہی ہے , اب اسکا خاوند فوت ہو گیا ہے اگر وہ خاوند کی عدت پوری کرتی ہےتو بچوں کی پرورش کرنے والا کوئی نہیں ہے , تو پلیز بتائیں اسکو عدت پوری کرنی چاہئیے یا بچوں کی پرورش کیلئے محنت مزدوری کر کے گھر کا گزر بسر کرنا چاہئیے ؟ مرحوم کے ترکہ میں کوئی رقم بھی نہیں تھی ۔
صورتِ مسؤلہ میں اگر وا قعۃً بچوں کی پرورش کے لئے مرحوم والد نے ترکہ میں سے کچھ نہ چھوڑا ہو،اور کام کیے بغیر بچوں کی پرورش کی کوئی اور صورت ممکن نہ ہو، تواس ضرورت کی بناء پر مذکور عورت کا دورانِ عدت مکمل شرعی پردے کا خیال رکھتے ہوئے اپنے بچوں کی پرورش کے لئے گھر سے باہر نکلنے کی اگرچہ گنجائش ہے،تاہم اس کو چاہیئے کہ دن کے وقت ہی کام کے لئے جایا کرے اور رات باہر گزارنے سے اجتناب کرے اور جیسے ہی کام ختم ہو فوراً گھر آیا کرے۔
کما فی البحر الرائق: (قوله ومعتدة الموت تخرج يوما وبعض الليل) لتكتسب لأجل قيام المعيشة؛ لأنه لا نفقة لها حتى لو كان عندها كفايتها صارت كالمطلقة فلا يحل لها أن تخرج لزيارة ولا لغيرها ليلا ولا نهارا،والحاصل أن مدار الحل كون خروجها بسبب قيام شغل المعيشة فيتقدر بقدره فمتى انقضت حاجتها لا يحل لها بعد ذلك صرف الزمان خارج بيتها كذا في فتح القديرالخ(فصل فی الاحداد،ج4،ص166،ط: دار الكتاب الإسلامي)۔
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0