مباحات

سوسائٹی میں موجود خالی پلاٹ استعمال کرنا

فتوی نمبر :
77101
| تاریخ :
2024-08-03
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

سوسائٹی میں موجود خالی پلاٹ استعمال کرنا

السلام علیکم! اکثر سوسائٹی میں کچھ پلاٹ خالی پڑے ہوتے ہیں، اور ان کے ساتھ جن کے مکان ہوتے ہیں وہ ان پلاٹوں کو اپنے استعمال میں رکھتے ہیں، بعض لوگ ان پر اپنے جانور پالتے ہیں یا گاڑیاں کھڑی کرتے ہیں، اکثر ان پلاٹ کے مالکان کا بھی پتہ نہیں ہوتا کہ مالک کون ہے، تو کیا اس طرح کسی کی زمین بلا اجازت استعمال کرنا صحیح ہے؟ نیز شادیوں یا فوتگی میں اس طرح کے خالی پلاٹ پر اپنا ٹینٹ باندھنا کیا یہ جائز ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ شریعتِ مطہرہ میں کسی کی ملکیت کو اس کی اجازت کے بغیر استعمال کرنا شرعاً جائز نہیں، خواہ مالک معلوم ہو یا بظاہر معلوم نہ ہو، لہٰذا اصولاً ایسے پلاٹوں کو ان کے مالکان کی اجازت کے بغیر اپنے تصرف میں لانے، یعنی ان میں جانور باندھنے یا دیگر مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح: (قال: قال: رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا) بالتخفيف للتنبيه (لا تظلموا) أي: لا يظلم بعضكم بعضا كذا قيل، والأظهر أن معناه: لا تظلموا أنفسكم، وهو يشمل الظلم القاصر والمعتدي (ألا) للتنبيه أيضا و كرره تنبيها على أن كلا من الجملتين حكم مستقل ينبغي أن ينبه عليه، و أن الثاني حيث يتعلق به حق العباد أحق بالإشارة إليه، و التخصيص لديه (لا يحل مال امرئ) أي: مسلم أو ذمي (إلا بطيب نفس) أي: بأمر أو رضا منه، (کتاب البیوع، باب الغصب والعارية، ج:5، ص: 1974، ط: دار الفكر، بيروت)-
و فی مجلۃ الاحکام العدلیۃ: لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه. لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي، (المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، المادۃ: 97/96، ص: 260، ط: حقانیہ)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
قمچی بیک ساقی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 77101کی تصدیق کریں
0     428
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات