السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ جو کرنے کا نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو قران میں حکم دیا گیا ہے کیا وہ کرنا نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر فرض تھا اور وہ نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا نہ کرنا کیا حرام گناہ اور ناجائز تھا مثال کے طور پر سورۃ النحل کی آیت نمبر 125 میں اللہ تعالی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے راستے کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ دعوت دینے کا کہا تو کیا یہ نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر کرنا فرض تھا اور کیا یہ کرنا اللہ نے فرض کیا اور کیا نہ کرنا حرام گناہ اور ناجائز تھا اور میرا سوال یہ ہے کہ جو بھی کرنے کا اللہ نے قرآن میں حکم دیا کیا وہ کرنا فرض ہے۔
قرآنِ کریم میں جہاں کہیں نبیِ کریم ﷺ کو کسی کام کا "أمر" (حکم) دیا گیا ہے، اس کے بارے میں اصولی طور پر فقہاء و مفسرین نے یہ ضابطہ بیان فرمایا ہے کہ نبی ﷺ کے لیے ’’امر‘‘ کا حکم اصل میں وجوب ہوتا ہے، یعنی جو کام اللہ تعالیٰ نے صیغۂ امر کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کو فرمایا، وہ اصولاً آپ ﷺکے حق میں فرض اور لازم ہوتا ہے، الا یہ کہ کسی دلیل سے ثابت ہوجائے کہ وہ امر وجوب کے لیے نہیں ،بلکہ استحباب، ارشاد، یا تعلیمِ امت کے لیے ہے،لہذا اگر کوئی حکم واقعی آپ ﷺ پر فرض تھا، تو اس کا جان بوجھ کر ترک کرنا نبی کے حق میں جائز نہیں،لیکن چونکہ رسول اللہ ﷺ معصوم عن الخطاءہیں، اس لیے آپ سے واجب کا ترک ہونا کبھی واقع ہوا ہی نہیں ،البتہ بہت سے احکام ایسے ہیں جن میں حکم اگرچہ نبی ﷺ کو دیا گیا، مگر وہ تعلیمِ امت کے لیے تھا،یا کسی مستحب عمل کی طرف رہنمائی تھی،یا آپ کو اختیار دیا گیا تھا ،یا وہ حکم امت کے لیے عام تھا، لیکن خطابات کی شان کی بنا پر نبی ﷺ کو مخاطب کیا گیا۔اس لیے ہر حکم کا مفہوم اور درجۂ حکم سیاق، شان نزول، اور دیگر دلائل سے متعین ہوتا ہے۔
جبکہ (سورۃ النحل: 125) ﵟٱدۡعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِٱلۡحِكۡمَةِ وَٱلۡمَوۡعِظَةِ ٱلۡحَسَنَةِۖ وَجَٰدِلۡهُم بِٱلَّتِي هِيَ أَحۡسَنُۚﵞ
ترجمہ :اپنے رب کے راستے کی طرف لوگوں کو حکمت کے ساتھ اور خوش اسلوبی سے نصیحت کر کے دعوت دو ، اور (اگر بحث کی نوبت آئے تو) ان سے بحث بھی ایسے طریقے سے کرو جو بہترین ہو۔ (آسان ترجمہ قرآن)
اس آیت کریمہ میں دعوت کا حکم نبی ﷺ کے لیے واجب تھاکیونکہ دعوت و تبلیغ کا کام نبی ﷺ کی بعثت کے بنیادی مقاصد میں سے ہے، لہٰذا یہ حکم آپ ﷺکے حق میں فرض تھا،بلاشبہ نبی ﷺ نے پوری زندگی اس فریضے کو انتہائی درجہ کی کمالِ ادائیگی کے ساتھ پورافرمایا۔ آپ ﷺ کا اس فرض کو ترک کرنا ممکن ہی نہیں تھا۔
تاہم نبی ﷺ پر جو چیزیں فرض تھیں، ضروری نہیں کہ وہ ہمیشہ امت پر بھی فرض ہوں۔بعض فرائض خصوصیاتِ نبویہ میں سےہیں (مثلاً تہجد کا فرض ہونا)،بعض احکام پورے دین کے لیے عمومی اصول ہیں جن کا خطاب طریقہ تعلیم کے طور پر نبی ﷺ کوکیا گیا،چنانچہ دعوت و تبلیغ کی ذمہ داری امت پر فرض کفایہ ہے، یعنی اگر کوئی طبقہ یہ فریضہ ادا کر دے تو سب کی طرف سے ذمہ ساقط ہو جاتا ہے، البتہ حالات کے لحاظ سے بعض اوقات افراد پر فرض عین بھی ہوجاتا ہے۔
لہذاقرآن کریم میں ’’أمر‘‘ (حکم) ہمیشہ فرض کے حکم میں نہیں ہوتا،بلکہ کس آیت میں "أمر"سےکون سا معنی مراد ہے؟یہ سیاق وسباق اوردیگر نصوصِ شرعیہ سےسمجھا جاتا ہے۔ لہٰذا کسی عامی آدمی کا خودسے یہ اصول اخذکرلیناکہ "جہاں اللہ نےکسی امر کا حکم دیا، وہ ہرجگہ فرض ہی ہوگا۔"درست نہیں ۔جس سے احترازچاہیے۔
کما فی صحیح مسلم: عن عبد اللّٰہ بن مسعود رضي اللّٰہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ما منکم من أحد إلا وقد وکل بہ قرینہ من الجن وقرینہ من الملائکۃ، قالوا وإیاک یا رسول اللّٰہ قال: وإیاک ولکن اللّٰہ أعانني علیہ فأسلم فلا یأمرني إلا بخیر،(کتاب صفة القیامة، باب تسویس الشیطان الخ، رقم الحدیث: 2814، ج:8، ص:139، ط:دار الطباعة العامرة)-
و فیہ ایضا: وقال في الحديث: «كحرمة يومكم هذا، في شهركم هذا، في بلدكم هذا، إلى يوم تلقون ربكم، ألا هل بلغت؟» قالوا: نعم، قال: «اللهم اشهد» صحيح مسلم (3/ 1307)
و فی شرح النووي على مسلم: وأما قوله صلى الله عليه وسلم فليغيره فهو أمر إيجاب بإجماع الأمة وقد تطابق على وجوب الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر الكتاب والسنة وإجماع الأمة وهو أيضًا من النصيحة التي هي الدين ... فقد أجمع المسلمون عليه ... ووجوبه بالشرع لا بالعقل ... والله أعلم ثم إن الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر فرض كفاية إذا قام به بعض الناس سقط الحرج عن الباقين وإذا تركه الجميع أثم كل من تمكن منه بلاعذر ولا خوف ثم إنه قد يتعين كما إذا كان في موضع لا يعلم به إلا هو أولا يتمكن من إزالته إلا هو وكمن يرى زوجته أو ولده أو غلامه على منكر أو تقصير في المعروف قال العلماء رضي الله عنهم ولا يسقط عن المكلف الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر لكونه لا يفيد في ظنه بل يجب عليه فعله فإن الذكرى تنفع المؤمنين.(كتاب الإيمان، باب بيان كون النهي عن المنكر من الإيمان، ج:2، ص:22، ط:دار إحياء التراث العربي بيروت)-
و فی أحكام القرآن للجصاص: قال الله تعالى: ولتكن منكم أمة يدعون إلى الخير ويأمرون بالمعروف وينهون عن المنكر قال أبوبكر قد حوت هذه الآية معنيين أحدهما وجوب الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر والآخر أنه فرض على الكفاية ليس بفرض على كل أحد في نفسه إذا قام به غيره لقوله تعالى ولتكن منكم أمة وحقيقته تقتضي البعض دون البعض فدل على أنه فرض على الكفاية إذا قام به بعضهم سقط عن الباقين ومن الناس من يقول هو فرض على كل أحد في نفسه ويجعل مخرج الكلام مخرج الخصوص في قوله ولتكن منكم أمة مجازا كقوله تعالى ليغفر لكم من ذنوبكم ومعناه ذنوبكم والذي يدل على صحة هذا القول أنه إذا قام به بعضهم سقط عن الباقين كالجهاد وغسل الموتى وتكفينهم والصلاة عليهم ودفنهم ولو لا أنه فرض على الكفاية لما سقط عن الآخرين بقيام بعضهم به.(آل عمران، باب فرض الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر، مطلب: في أن الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر فرض كفاية، ج:2، ص:38، ط:دار الكتب العلمية)-
آپ علیہ السلام نور ہیں یا بشر؟ اور کیاآپ علیہ السلام اللہ کے نور سے پیدا شدہ ہیں؟
یونیکوڈ رسالت و نبوت 0