مباحات

کسی اور کی گاڑی رجسٹر کرواکر فیول کی سہولت لینا

فتوی نمبر :
77295
| تاریخ :
2024-08-10
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

کسی اور کی گاڑی رجسٹر کرواکر فیول کی سہولت لینا

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ، مفتی صاحبمیں ایک نجی فیکٹری فیصل آباد میں جاب کررہا ہوں، فیکٹری ڈپٹی مینیجر کے عہدے کو فیول دیتی ہے اور جو گاڑی آپکے نام ہے اس کی 60/40% پر ملازم کو قسط ادا کرتی ہے، واضح رہے جب آپ جاب کے لیے آتے ہیں تو وہ ٹوٹل سیلری میں فیول اور قسط کو جمع کرکے ملازم کو بتاتے ہیں،لیکن ہر ملازم کے پاس اپنی گاڑی ذاتی نہیں ہوتی، تو ملازم کسی دوست یا رشتہ دار کی گاڑی کو فیکٹری میں رجسٹر کروا کر سہولیات فائدہ اٹھاتا سے ہے، میں نے فیکٹری کے ایچ آر میں بات کی تو وہ کہتے کہ گاڑی رجسٹر کروانے پر ہی سہولیات سے مستفید ہو سکتے ہیں،آپ جس کی مرضی گاڑی رجسٹر کروادیں،اس سلسلے میں راہنمائی فرمائیں دیں کہ ان سہولیات سے استفادہ کرنا درست ہے؟

نوٹ: سائل سے بذریعہ فون معلوم ہوا کہ فیکٹری ڈپٹی مینیجر کے عہدے کو فیول دیتی ہے، اور یہ فیول تنخواہ سے الگ ہوتا ہے، تنخواہ الگ مکمل ملتی ہے، اور فیول الگ ملتا ہے، لیکن اس کے لیے کمپنی کا یہ قانون ہے کہ آپ کو کوئی گاڑی رجسٹر کروانی پڑتی ہے، خواہ آپ اپنی گاڑی رجسٹر کروائیں یا کسی دوست یا رشتہ دار کی، بہرحال گاڑی رجسٹر کروا کر فری فیول ملتا ہے، تو یہ فیول استعمال کرنا کیسا ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں درج بیان اور نوٹ میں ذکر کر دہ تفصیل اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو اس طور پر کہ کمپنی کی طرف سے فری فیول کی سہولت حاصل کرنے کے لیے فقط کمپنی میں گاڑی کی رجسٹریشن کافی ہو خواہ وہ ملازم کی ذاتی گاڑی ہو یا اس کے کسی دوست اور رشتہ دار کی،تو ایسی صورت میں سائل کے لیے کمپنی میں گاڑی رجسٹر کروا کر فری فیول کی سہولت سے مستفیدہونا جائز ہوگا، بشرطیکہ وہ گاڑی ملازم کے استعمال میں بھی ہو، لیکن اگر کمپنی کا ایسا کوئی ضابطہ نہ ہو بلکہ یہ سہولت فقط ذاتی گاڑی کی رجسٹریشن پر ملتی ہو تو ایسی صورت میں ملازم کا کسی دوست یا رشتہ دار وغیرہ کی گاڑی رجسٹر کر کے فری فیول کی سہولت حاصل کرنا جھوٹ اور دھوکہ دہی پر مبنی عمل ہے جو کہ شرعا جائز نہیں اور اس دوسری صورت میں فری فیول کا استعمال بھی شرعا جائز نہ ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ: كون التبرع بذل المكلف مالا أو منفعة لغيره في الحال أو المآل بلا عوض بقصد البر والمعروف غالبااھ (ج10،ص65، ط: دارالسلاسل)۔
وفیہ ایضاً: العطية: هي ما أعطاه الإنسان من ماله لغيره، سواء كان يريد بذلك وجه الله تعالى، أو يريد به التودد، أو غير ذلك((ج23،ص227، ط: دارالسلاسل)۔
وفی الدرالمختار: (هي) لغة: التفضل على الغير ولو غير مال. وشرعا: (تمليك العين مجانا) أي بلا عوض لا أن عدم العوض شرط فيه (الی قولہ) (وسببها إرادة الخير للواهب) دنيوي كعوض ومحبة وحسن ثناء، وأخروي: قال الإمام أبو منصور يجب على المؤمن أن يعلم ولده الجود والإحسان كما يجب عليه أن يعلمه التوحيد والإيمان(کتاب الھبۃ،ج5،ص687،ط:سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد خباب ارباب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 77295کی تصدیق کریں
0     653
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات