مباحات

ڈیڈھ دو ماہ غیر حاضر رہنے والے بچہ سے فیس لینا

فتوی نمبر :
77350
| تاریخ :
2024-08-12
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

ڈیڈھ دو ماہ غیر حاضر رہنے والے بچہ سے فیس لینا

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ !اگر کوئی شخص مکتب چلاتا ہو اور بچے نےایک یا ڈیڑھ مہینے ناغہ کیا ہو تو اس بچےکی فیس لی جاسکتی ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ جب کوئی بچہ مکتب یا اسکول میں داخلہ لے لیتا ہے تو حسب معاہدہ عموما سال بھر کیلئے اجارہ کا معاملہ منعقد ہو جاتا ہے ،اور اس میں ایام رخصت اور غیر حاضری کی ادائیگی فیس بھی لازم ہوئی ہے، اب اگر طالب علم اپنی ذاتی کسی وجہ سے مکتب یا اسکول سے استفادہ نہ کر سکے تو اس کی ذمہ داری مکتب یا اسکول انتظامیہ پر عائد نہیں ہوتی،بلکہ طالب علم پر حسب معاہدہ مکمل فیس کی ادائیگی شرعاً لازم ہوتی ہے ،لہذا صورت مسئولہ میں اگر کوئی بچہ اپنی ذاتی کسی وجہ سے مکتب سےغیر حاضر رہے اور استفادہ کرنے میں مکتب انتظامیہ کی طرف سے کوئی رکاوٹ نہ ہو ،تو ایسی صورت میں اس کیلئے مکمل فیس کی ادائیگی شرعاً لازم ہوگی ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الھندیۃ: وكما يجب الأجر باستيفاء المنافع يجب بالتمكن من استيفاء المنافع إذا كانت الإجارة صحيحة حتى إن المستأجر دارا أو حانوتا مدة معلومة ولم يسكن فيها في تلك المدة مع تمكنه من ذلك تجب الأجرة، كذا في المحيط الخ(ج4 ص413)۔
وفیھا ایضا: فإن عرض في المدة ما يمنع الانتفاع كما إذا غصبت الدار من المستأجر أو غرقت الأرض المستأجرة أو انقطع عنها الشرب أو مرض العبد أو أبق سقطت الأجرة بقدر ذلك الخ(ج4 ص413)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حذیفہ حسن عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 77350کی تصدیق کریں
0     632
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات