مباحات

Ruling on residing in a house built without obtaining proper government permission

فتوی نمبر :
77662
| تاریخ :
2024-08-25
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

Ruling on residing in a house built without obtaining proper government permission

گھر کی اوپری منزل حکومتی ادارہ کی اجازت کے بغیر بنائی گئی ہے، ا س میں رہتے بھی ہیں اور سولر پینل سے بجلی بھی پیدا کر کے استعمال کرتے ہیں ، بجلی اور رہنا حرام تو نہیں ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ حکومتی ادارے ( بلڈنگ کنٹرولر اتھارٹی) کی جانب سے عام شہریوں اور سوسائیٹی میں رہنے والوں کے لئےتعمیر ات کرتے ہوئے اس کی اونچائی کی ایک خاص مقدار متعین ہوتی ہے، اس سے اوپر تعمیر کرنا خلاف قانون تصور کیا جاتا ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں چونکہ سائل نے حکومتی ادارے ( بلڈنگ کنٹرولر اتھارٹی) کی اجازت اور علم میں لائے بغیر اوپری منزل تعمیر کی ہے تو یہ تعمیر کرنا درست نہیں تھا، اس لئے سائل کو چاہیے کہ حکومتی ادارہ سے باقاعدہ اجازت لے کر اس تعمیر کو برقرار رکھے ، تو یہ زیادہ بہتر ہوگا، جبکہ مذکور گھر میں رہتے ہوئے سولر پینل سے حاصل شدہ بجلی استعمال کرنا درست ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی احکام القرآن للجصاص: قال الله تعالى يا أيها الذين آمنوا أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولي الأمر منكم ( الی قولہ ) ومن الناس من يقول إن الأظهر من أولى الأمر هاهنا أنهم الأمراء لأنه قدم ذكر الأمر بالعدل وهذا خطاب لمن يملك تنفيذ الأحكام وهم الأمراء والقضاة ثم عطف عليه الأمر بطاعة أولي الأمر وهم ولاة الأمر الذين يحكمون عليهم ماداموا عدولا مرضيين وليس يمتنع أن يكون ذلك أمرا بطاعة الفريقين من أولي الأمر وهم أمراء السرايا والعلماء إذ ليس في تقدم الأمر بالحكم بالعدل ما يوجب الاقتصار بالأمر بطاعة أولي الأمر على الأمراء دون غيرهم الخ ( باب فی طاعۃ اولی الامر ج 2 ص 210 ط: سہیل اکیڈمی )۔
وفی صحیح مسلم: عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم، أنه قال: «على المرء المسلم السمع والطاعة فيما أحب وكره، إلا أن يؤمر بمعصية، فإن أمر بمعصية، فلا سمع ولا طاعة» اھ ( ج 3 ص 1469 ط: بیروت)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد مبارز الیاس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 77662کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات