گناہ و ناجائز

Ruling regarding taking false oath

فتوی نمبر :
78988
| تاریخ :
0000-00-00
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

Ruling regarding taking false oath

السلام علیکم، مفتی صاحب! میرا آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ میں ایک شخص کے ساتھ ناجائز تعلقات میں ملوث رہی ہوں، میرے شوہر کو اس بات کا علم ہو چکا ہے، اب وہ مجھے قرآن مجید پر قسم کھانے کو کہہ رہے ہیں، اگر میں سچ بتا دیتی ہوں تو میرا گھر تباہ ہو جائے گا، میرے شوہر کا کہنا ہے کہ اگر واقعی تم نے یہ غلطی کی ہے تو میں تمہیں سات دن کے اندر طلاق دے دوں گا، اور اگر میں قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر جھوٹی قسم کھا لوں کہ میں نے کوئی غلطی نہیں کی، تو میرا گھر بچ جائے گا۔ ایسی صورت میں مجھے کیا کرنا چاہیئے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ کسی کا گھر بچانے یا دو بندوں کے درمیان صلح کروانے کی خاطر راجح قول کے مطابق صریح جھوٹ بولنا تو ناجائز و حرام ہے ،البتہ "توریہ" یعنی ایسی گول مول اور دو معنی بات کرنا جس سے مقصود بھی حاصل ہو جائے اور وہ صریح جھوٹ بھی نہ ہو، اس کی گنجائش ہے، لہذا سائلہ کے لئے اپنا گھر بچانے کی خاطر جھوٹی قسم کھانا تو جائز نہیں ،لیکن اگر وہ اس مقصد کی خاطر "توریہ" (گول مول بات کر نے ) کا سہارا لے لے، تو شرعاً درست ہوگا، اور سائلہ کا مقصود بھی پورا ہو جائے گا، جبکہ اگر وہ جھوٹی قسم کھا لیتی ہے، تو ایسی صورت میں اس پر بصد دق دل توبہ و استغفار لازم ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في سنن الترمذي : عن أمه أم كلثوم بنت عقبة قالت: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ليس بالكاذب ‌من ‌أصلح ‌بين ‌الناس ‌فقال خيرا أو نمى خيرا. هذا حديث حسن صحيح (‌‌باب ما جاء في إصلاح ذات البين، ج 4، ص 331، رقم : 1938، ط : مطبعة مصطفى، مصر)-
وفي رد المحتار : تحت (قوله قال) أي صاحب المجتبى وعبارته قال عليه الصلاة والسلام «كل كذب مكتوب لا محالة إلا ثلاثة الرجل مع امرأته أو ولده والرجل يصلح بين اثنين والحرب فإن الحرب خدعة» ، قال الطحاوي وغيره هو ‌محمول ‌على ‌المعاريض، لأن عين الكذب حرام. قلت: وهو الحق قال تعالى - {قتل الخراصون} [الذاريات: 10]- وقال عليه الصلاة والسلام «الكذب مع الفجور وهما في النار» ولم يتعين عين الكذب للنجاة وتحصيل المرام اهـ. (كتاب الحظر والإباحة، ج 6، ص ، ط : 426، ط : سعيد)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عبدالمجید نور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 78988کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات