مباحات

میت کے پوسٹ مارٹم کرنے کا شرعی حکم

فتوی نمبر :
79552
| تاریخ :
2024-11-26
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

میت کے پوسٹ مارٹم کرنے کا شرعی حکم

اسلامی نقطہ نظر سے پوسٹ مارٹم کے انعقاد کے بارے میں کیا رائے ہے، خاص طور پر ان معاملات میں جو قانونی یا جرائم کی تحقیقات کے لیے کیے جاتے ہیں؟ میرا سوال ان پوسٹ مارٹمز کے بارے میں ہے جو قانونی یا جرائم کی تحقیقات کے لیے کیے جاتے ہیں، نہ کہ ان پوسٹ مارٹمز کے بارے میں جو طبی تحقیق، تعلیم، یا بیماری کی تشخیص کے لیے کیے جاتے ہیں۔
مزید برآں، میں یہ سمجھنا چاہتا ہوں کہ اسلامی فقہ کے مختلف مکاتب فکر اس معاملے پر کیا رائے رکھتے ہیں، کیونکہ ان کی تشریحات مختلف ہو سکتی ہیں۔ یہ سوال تحقیقاتی مقاصد کے لیے ہے، اور میں آپ سے اجازت چاہتا ہوں کہ دی گئی معلومات کو اپنے تحقیقی کام میں مناسب حوالہ کے ساتھ استعمال کر سکوں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اسلام میں انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیا گیا ہے، اور شریعتِ مطہرہ نے زندگی میں اور انتقال کے بعد دونوں صورتوں ميں انسانی جسم کی حرمت کو برقرار رکھا ہے۔
ارشادباری تعالی ہے
وَلَقَدۡ كَرَّمۡنَا بَنِيٓ ءَادَمَ [الإسراء: 70]
"ہم نے بنی آدم کو عزت دی۔"
«سنن أبي داود» (3/ 213 ت محيي الدين عبد الحميد):
عن عائشة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «‌كسر ‌عظم الميت ككسره حيا»
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"میت کی ہڈی کو توڑنا ایسا ہی ہے جیسے زندہ انسان کی ہڈی توڑنا۔"
اسلامی فقہ کے تمام مکاتب فکرمیں میت کی چیر پھاڑ (پوسٹ مارٹم) کو اصل کے طور پر ممنوع (حرام یا مکروہِ تحریمی) قرار دیا گیا ہے، کیونکہ اس میں میت کی توہین اور بےحرمتی پائی جاتی ہے۔لیکن اگر کوئی ناگزیر ضرورت (مثلاً جرائم کی تحقیقات، عدالتی مطالبہ) ہو، تو فقہی اصول "الضرورات تبيح المحظورات" (ضرورتیں ممنوع چیزوں کو جائز کر دیتی ہیں) کے تحت درجِ ذیل شرائط کے ساتھ مشروط اجازت دی جاتی ہے•
•صرف شرعی یا قانونی ناگزیر ضرورت ہو۔
•عدالت یا مجاز ادارے کی درخواست پر ہو۔
•میت کی توہین سے حتی المقدور اجتناب کیا جائے۔
•معاملہ محدود، منظم اور غیرتشہیری ہو۔
•کوئی متبادل طریقہ ممکن نہ ہو۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الأشباه والنظائر - ابن نجيم : وتتعلق بها قواعد:‌‌ الأولى: ‌الضرورات تبيح المحظورات،
ومن ثم جاز أكل الميتة عند المخمصة، وإساغة اللقمة بالخمر، والتلفظ بكلمة الكفر للإكراه وكذا إتلاف المال، وأخذ مال الممتنع الأداء من الدين بغير إذنه ودفع الصائل، ولو أدى إلى قتله. (ص73)
«فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي : وفي التجنيس ‌من ‌علامة ‌النوازل امرأة حامل ماتت واضطرب في بطنها شيء وكان رأيهم أنه ولد حي شق بطنها، فرق بين هذا وبين ما إذا ابتلع الرجل درة فمات ولم يدع مالا عليه القيمة ولا يشق بطنه لأن في المسألة الأولى إبطال حرمة الميت لصيانة حرمة الحي فيجوز. (2/ 142)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سعد جاوید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 79552کی تصدیق کریں
0     16
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات