کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نامی شخص کی تین بیٹیاں ہیں۔ موصوف کا تعلق غریب گھرانے سے ہے،یہ شخص اپنی بیمہ پالیسی نکلوانا چاہتا ہے کہ آگے چل کر اس کی بیٹیوں کے جہیز وغیرہ میں رکاوٹ نہ ہو، بیمہ کا طریقہ کچھ یوں ہے کہ مذکور شخص ۱۸ سال تک ہر سال چھ ہزار روپے کمپنی کو دیگا، اور ۱۸ سال بعد کمپنی اس کو چھ لاکھ روپے ادا کر یگی ۔ کیا بیمہ پالیسی شرعاً جائز ہے؟ اور کیا زید کے لئے بامرِ مجبوری یہ چھ لاکھ روپے حلال اور جائز ہے؟ قرآن و سنت کی روشنی میں مسئلہ کا حل بتا کر عنداللہ ماجور ہوں۔
واضح ہو کہ زندگی کا بیمہ ربا، قمار اور غرر پر مشتمل ہونے کی بناء پرشرعاً ناجائز اور حرام ہے، اگر کسی نے اس طرح کی بیمہ پالیسی لے لی ہو تو اس کے لئے کمپنی سے صرف اتنی رقم وصول کرنا حلال ہے ،جتنی قسطوں کی صورت میں اس نے جمع کی ہے، اس سے زائد لینا جائز نہیں۔ البتہ سائل اگر اس قسم کی پالیسی ہی لینے کا ارادہ رکھتا ہو تو اسے چاہیے کہ’’ پاک قطر فیملی تکافل کمپنی‘‘ کے ذریعہ تکافل پالیسی لے لے، جو انشورنس کا جائر نعم البدل ہے۔ اس میں شرعاً بھی کوئی قباحت نہیں اور سائل کا مقصد بھی پورا ہو جائے گا۔
قال الله سبحانه وتعالى: ﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ (البقرة: 275)۔
وفي مشكاة المصابيح: عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: "هم سواء". رواه مسلم (2/ 134) ۔
وفي أحكام القرآن للجصاص: باب تحريم الميسر قال الله تعالى: ﴿ يسألونك عن الخمر والميسر قل فيهما إثم كبير ﴾ قال أبو بكر : دلالته على تحريم الميسر (إلی قوله) ولا خلاف بين أهل العلم في تحريم القمار وأن المخاطرة من القمار اھ (2/ 328) ۔
وفي صحيح مسلم: عن أبي هريرة قال * نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع الحصاة وعن بيع الغرر اھ (3/ 1153)۔
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0