مباحات

مدرسہ کے بانی اور استاد کو کام نہ کرنے کے باوجود تنخواہ دینا

فتوی نمبر :
80505
| تاریخ :
2025-01-06
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

مدرسہ کے بانی اور استاد کو کام نہ کرنے کے باوجود تنخواہ دینا

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !سلام مسنون کے بعد عرض کی جاتی ہے کہ میرے والد محترم نے ہمارے اپنے علاقے وزیرستان میں ایک مدرسہ بنایا، جب ہم نے آپریشن کی وجہ سے اپنے علاقے سے ہجرت کر کے ڈیرہ اسماعیل خان میں مقیم ہوئے تو میرے والد صاحب نے یہاں ڈیرہ اسماعیل خان میں اس پہلے مدرسے( جو ہمارے علاقے میں ہے) کی شاخ بنائی، جس کو 12 سال ہو گئےہیں، تو اب سوال یہ ہے کہ میرے والد صاحب کا پہلے 8 ہزار روپے وظیفہ تھا، اب اس کا وظیفہ 10 ہزار روپے ہے،اب میرے والد صاحب نے بہت کمزوری اور زیادہ عمر کی وجہ سے استعفی دے دیا ہے، اس نے جامعہ کے سارے انتظامات و اہتمام میرے سپرد کردیے، تو اب میں اپنے والد صاحب کو وہی وظیفہ جو استعفی دینے سے پہلے مقرر تھا، دے سکتا ہوں؟ اس نیت سے کہ میرے والد صاحب اس جامعہ کے بانی ہیں، اور جامعہ میں ہر قسم کی خدمات سرانجام دی ہیں، اگر نہیں دے سکتا، تو جو وظیفہ استعفی دینے کے بعد دیا ہے اس کا کیا حکم ہے؟ نوٹ میرے علاوہ سب بھائیوں کا اتفاق ہوا کہ ہمارے والد صاحب کے جو خدمات ہیں، ہمیں اس لئے ان کو وظیفہ دینا چاہیے، براہِ مہربانی ہمیں شریعت ِ مطہرہ کی روشنی میں پوری وضاحت کے ساتھ رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ دینی اداروں سمیت جہاں جہاں بھی رفاعی امور کی انجام دہی کے لئے لوگوں سے زکوۃ اور صدقات وغیرہ وصول کئے جاتے ہیں تو اداروں کے منتظمین کے پاس وہ بطور امانت ہوتے ہیں، جو متعلقہ مصارف میں خرچ کرنا شرعاً بھی لازم اور ضروری ہے، ورنہ امانت میں خیانت ہونے کی وجہ سے بروز قیامت اللہ کے ہاں جوابدہی کے ساتھ ساتھ لوگوں کو بھی جوابدہ ہونا پڑے گا، جبکہ دینی مدارس کے ساتھ تعاون کی مد میں جمع کی جانے والی رقم بنیادی طور پر طلباء کی ضروریات میں خرچ کرنے کے لئے دی جاتی ہے،اور طلباء کی ضروریات میں ان اساتذہ اور منتظمین کی تنخواہیں شامل ہیں جو براہ راست ادارے میں اپنی خدمات انجام دینے پر مامور ہوں، لہذا سائل کے والد محترم اگر فی الوقت ادارے کے کسی خدمت پر مامور نہ ہوں تو محض ادارے کے قیام کی وجہ سے وہ ادارے کے فنڈ سے تنخواہ لینے کے مجاز نہیں، اور نہ ہی سائل اور اس کے بھائیوں کے پاس ان کے لئے اجتماعی فنڈ سے وظیفہ مقرر کرنے کا اختیار ہے، لہذا والد کا ذمہ داری سے سبکدوشی کے بعد سائل یا اس کے بھائیوں نے اپنے والد کو ادارے کے اجتماعی فنڈ سے جو رقم دی ہے ان کے ذمہ اس قدر رقم ادارے کے فنڈ میں واپس جمع کرنا لازم ہے۔ البتہ اجتماعی فنڈ کے علاوہ اگر کوئی فرد سائل کے والد کی خدمات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی مرضی سے اس کے ساتھ کچھ تعاون کرنا چاہے تو کر سکتا ہے، اور سائل کے والد کے لئے اسے لینا شرعا بھی جائز ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الفتاوی الھندیۃ: الذی یبدأ من ارتفاع الوقف عمارتہ شرط الواقف أم لا ثم إلی ما ھو أقرب إلی العمارۃ وأعم للمصلحۃ کالإمام للمسجد والمدرس للمدرسۃ یصرف إلیھم بقدر کفایتھم (إلی قولہ) وأما الناظر فإن کان المشروط لہ من الواقف فھو کأحد المستحقین فإذا قطعوا للعمارۃ قطع إلا أن یعمل فیأخذ قدر أجرتہ وإن لم یعمل لا یأخذ شیئاً کذا فی فتح القدیر الخ(الباب الثالث فی المصارف الخ، ج 2، ص 368، ط: ماجدیۃ)۔
وفی المبسوط للسرخسی: ولیس للمودع حق التصرف والاسترباح فی الودیعۃ ولھذا لا یسافر من طریق البحر الخ(کتاب الودیعۃ، ج 11، ص 122، ط: دار الکتب العلمیۃ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عبدالصمد فرید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 80505کی تصدیق کریں
0     514
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات