مباحات

مشترکہ رہائش کی صورت میں ایک فرد کے خریدے ہوئے پلاٹ کا حکم

فتوی نمبر :
80535
| تاریخ :
2025-01-07
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

مشترکہ رہائش کی صورت میں ایک فرد کے خریدے ہوئے پلاٹ کا حکم

السلام علیکم و رحمۃ الله و برکاتہ، میرا نام حامد ہے اور میرا تعلق افغانستان سے ہے،ہم 6 بھائی ہیں، سب اکٹھے رہتے ہیں ۔ 3بھائی میرے سمیت پرائیویٹ نوکری کر کے کما رہے ہیں اور گھر کے اخراجات اکٹھے ادا کر رہے ہیں، میں نے اپنی تنخواہ سے پیسے بچا کر زمین کا ٹکڑا خریدا ہے۔
ابھی تک ہم الگ نہیں ہوئے، کیونکہ ہمارے والدین الحمدللہ حیات ہیں اور ہمارے ساتھ رہتےہیں،ابھی تک میں نے اس زمین کے بارے میں گھر کے کسی فرد کو نہیں بتایا، کیا میرا چھپانا جائز ہے؟ اور کیا میرے بھائیوں کا اس خریدے ہوے زمین پر حق یا حصہ بنتا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل نے ذاتی پیسوں سے جو زمین اپنے لئے خریدی ہے، اگر اس میں دیگر بھائیوں یا والد صاحب کی کوئی رقم شامل نہ ہو تو مذکور زمین سائل کی ملکیت ہے ، سائل کے دیگر بھائیوں یا والد کا شرعاً اس میں کوئی حصہ نہیں اور نہ ہی سائل پر ان کو مذکور زمین کے بارے میں مطلع کرنا ضروری ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الدر المختار: (وما حصله أحدهما فله وما حصلاه معا فلهما) نصفين إن لم يعلم ما لكل (وما حصله أحدهما بإعانة صاحبه فله ولصاحبه أجر مثله بالغا ما بلغ عند محمدؒ، وعند أبی يوسفؒ لا يجاوز به نصف ثمن ذلك) الخ
وفی الرد: تحت (قوله: وما حصله أحدهما) أی بدون عمل من الآخر، الخ (کتاب الشرکۃ، ‌‌فصل فی الشركة الفاسدة، ج 4، ص 325، ط: ایچ ایم سعید)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبداللہ اسد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 80535کی تصدیق کریں
0     16
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات