السلام علیکم! میرا سوال یہ ہے کہ: میرا بڑابیٹاجس کی عمر آٹھ سال ہے اور اس کے بعد میری دو جڑواں بیٹیاں ہیں، جن کی عمر پانچ سال ہے ۔اب مُجھے دو ماہ کا حمل ٹھہر گیا ہے، لیکن میں اب مزید بچے نہِیں چاہْتی،میری ذہنی کیفیت اس بات کی متحمل نہِیں ہو پا رہی ،مجھے بہت زیادہ انذائٹی اور ڈپریشن رہتا ہے ، اس طرح میں اپنے تینو ں بچوں کی تربیت آسانی سے نہِیں کر پاؤں گی۔ تو کیا میں اس حمل کو ساقط کر سکتی ہوں؟
واضح ہوکہ حمل پر چار ماہ کا عرصہ گرزنے اور اس میں جان پڑنے سے قبل کسی عذر کی وجہ سے فقہاء کرام ۔رحمھم اللہ۔نے اسے ساقط کرنے کی گنجائش دی ہے ۔لیکن اگر کوئی عذر نہ ہو، تو اہل علم نے چار ماہ سے قبل بھی اسقاط حمل کو مکروہ قرار دیاہے۔لہذا مذکور حمل کی وجہ سے اگر سائلہ کو ناقابل برداشت تکلیف کا سامنا نہ ہو، تو سائلہ کو چاہئے کہ: حمل پر چار ماہ کا عرصہ گزرنے سے قبل بھی بلاکسی عذر کے حمل ساقط کرنے سے اجتناب کرے،البتہ اگر کوئی سخت عذر ہو اور کوئی ماہر دیندار ڈاکٹر اسقاط حمل کا مشورہ دے ،تو ایسی صورت میں سائلہ کے لئے حمل پر چار ماہ کا عرصہ گزرنے سے قبل اسقاط حمل کی گنجائش ہوگی،تاہم چار ماہ کا عرصہ گزرنے کے بعد اسقاط حمل قطعا جائز نہیں، جس سے اجتناب لازم ہے۔
کما فی الشامیة: تحت (قوله وقالوا إلخ) قال في النهر: بقي هل يباح الإسقاط بعد الحمل؟ نعم يباح ما لم يتخلق منه شيء ولن يكون ذلك إلا بعد مائة وعشرين يوما، وهذا يقتضي أنهم أرادوا بالتخليق نفخ الروح وإلا فهو غلط لأن التخليق يتحقق بالمشاهدة قبل هذه المدة كذا في الفتح، وإطلاقهم يفيد عدم توقف جواز إسقاطها قبل المدة المذكورة على إذن الزوج وفي كراهة الخانية: ولا أقول بالحل إذ المحرم لو كسر بيض الصيد ضمنه لأنه أصل الصيد فلما كان يؤاخذ بالجزاء فلا أقل من أن يلحقها إثم هنا إذا سقط بغير عذرها اهـ قال ابن وهبان: ومن الأعذار أن ينقطع لبنها بعد ظهور الحمل وليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر ويخاف هلاكه ونقل عن الذخيرة لو أرادت الإلقاء قبل مضي زمن ينفخ فيه الروح هل يباح لها ذلك أم لا؟ اختلفوا فيه، وكان الفقيه علي بن موسى يقول: إنه يكره، فإن الماء بعدما وقع في الرحم مآله الحياة فيكون له حكم الحياة كما في بيضة صيد الحرم، ونحوه في الظهيرية قال ابن وهبان: فإباحة الإسقاط محمولة على حالة العذر، أو أنها لا تأثم إثم القتل اهـ وبما في الذخيرة تبين أنهم ما أرادوا بالتحقيق إلا نفخ الروح، وأن قاضي خان مسبوق بما مر من التفقه، والله تعالى الموفق اهـ كلام النهر (3/ 176)