ایک شخص کو لاوارث بچہ ملا ہے وہ اس کی کفالت کررہا ہے ، اس کے بارے میں کچھ سوالات ہیں:
بچے کو اسکول میں داخل کراتے وقت ولدیت کے خانے میں کس کا نام لکھا جائے ؟
جو شخص کفالت کررہا ہے کیا بچے کو اس کے قبیلے کی طرف منسوب کرسکتے ہیں ؟ مثلا: احمدزئی ،حسن زئی وغیرہ ،
یابچے کوکفیل کے علاقہ کی طرف منسوب کرسکتے ہیں جیسے : شکارپوری، راجن پور ی وغیرہ ۔
دوآدمیوں نے ایک بچے کے نسب کا دعوی کیا ہے کیا قیافہ اور چہرہ شکل وشباہت کے ذریعے اس کے نسب کا فیصلہ کرسکتے ہیں ؟ یا ڈی این اے کے ذریعے بچے کو کسی ایک کی طرف منسوب کرسکتے ہیں ؟
لاوارث بچہ بالغ ہونے پر امامت کراسکتاہے ؟
بینواوتوجروا
(1-4)واضح ہوکہ ازروئےشرع لاوارث یا غیرمعلوم النسب بچے کے کاغذات میں سرپرست(GUARDIAN)کے خانے میں کسی سرپرست کا نام درج کروایاجائے،اسی طرح لاوارث یا غیرامعلوم النسب بچے کو کسی مخصوص قبیلے (جیسے احمد زئی، حسن زئی) کی طرف نسبت دینا شرعاً جائز نہیں، کیونکہ یہ بھی نسب میں جھوٹ ،اوراس بچےکوکسی دوسرےخاندان میں شامل کرنا ہے،جوکبیرہ گناہ ہے جس پرقرآن وسنت میں بڑی سخت وعیدیں واردہوئی ہیں۔البتہ بچے کواس کے موجودہ سکونتی علاقہ کی طرف منسوب کرتے ہوئے مثلاً" راجن پوری" یا "شکارپوری" کےلاحقہ کےساتھ پکاراجارہاہواورآس پاس میں معروف ہوکہ یہ نسبت نسبی نہیں ہےتواس کےلگانےمیں شرعا میں کوئی مضائقہ نہیں ،تاہم اگرمذکوربچے کی رہائش اس علاقہ کی نہ ہو،بلکہ محض سرپرست کے آبائی علاقہ کی نسبت سےاس لاحقہ کے ساتھ پکاراجارہاہواوراس لاحقہ کی وجہ سےبچے کے نسب میں اشتباہ پیداہونے کاقوی اندیشہ موجودہو توحقیقت کے برخلاف ہونے کی وجہ سے اس کےلگانےسے گریزکیاجاناچاہیے ۔
جبکہ کسی بھی لاوارث یا غیرمعلوم النسب بچےکے نسب کوثابت کرنےلیے شریعت کے مقررکردہ اصولوں کو پیش نظر رلھناضروری ہے،اورشریعت میں نسب کے ثبوت کے متفقہ طریقے: فراش (عورت جس مرد کے نکاح میں ہو ، اس سے بچہ کا نسب ثابت ہونا) ، شہادت (گواہی) اور اقرار ہیں ،لہذا ”ثبوت نسب“ کے سلسلے میں انہی شرعی طریقوں کا اعتبار ہے، قیافہ شناسی یا ڈی این اے ٹیسٹ کو بنیادی ثبوت کی حیثیت حاصل نہیں،اوراس کےزریعےکسی بچے کےنسب کوکسی بھی فردکےساتھ لاحق نہیں کیاجاسکتا ،البتہ قیافہ شناسی یاڈی این اے ٹیسٹ کوشرعی شھادت کےساتھ بحیثیت قرآئن وعلامات بطورتائیدی ثبوت پیش کرنےکی شرعاگنجائش ہے۔
(5) اگر لاوارث بچہ صحیح العقیدہ ، متقی و پرہیز گاراور شرائطِ امامت پر پورا اترتا ہو تو وہ بالغ ہونے کے بعد امامت کر سکتا ہے، اس کے لاوارث ہونے کی وجہ سے امامت میں کوئی شرعی امر مانع نہیں۔
کماقال اللہ تعالی فی التنزیل : ﴿ وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُمْ بِهِ وَلَكِنْ مَا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا﴾ [الأحزاب: 4، 5]
وفی سنن ابی داؤد : عن عمرو بن شعیب عن أبیہ عن جدہ قال: قام رجل فقال یا رسول اللہ! إن فلانا ابنی عاہرت بأمہ فی الجاہلیۃ، فقال رسول اللہ ﷺ: لا دعوۃ فی الإسلام،ذہب أمر الجاہلیۃ، الولد للفراش وللعاہر الحجر۔ (أبوداؤد شریف، 1/317، دار السلام)
وفی عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری : وقال الكوفيون والثوري وأبو حنيفة وأصحابه: الحكم بها باطل لأنها حدس، ولا يجوز ذلك في الشريعة وليس في حديث الباب حجة في إثبات الحكم بها لأن أسامة قد كان ثبت نسبة قبل ذلك ولم يحتج الشارع في إثبات ذلك إلى قول أحد، وإنما تعجب من إصابة مجزز كما يتعجب من ظن الرجل الذي يصيب ظنه حقيقة الشيء الذي ظنه، ولا يجب الحكم بذلك. وترك رسول الله صلى الله عليه وسلم الإنكار عليه لأنه لم يتعاط بذلك إثبات ما لم يكن ثابتا وقد قال تعالى: {ولا تقف ما ليس لك به علم} (الإسراء: 63) (23/264،ط؛دار احیاء التراث العربی)
وفی الشامیۃ : (وولدالزنا) اذلیس لہ اب یربیہ ویؤدبہ ویعلمہ فیغلب علیہ الجھل بحر اولنفرۃ الناس عنہ۔۔ لکن ما بحثہ فی البحر صرح بہ فی الاختیار حیث قال ولو عدمت أی علۃ الکراھۃ بان کان الاعرابی افضل من الحضری والعبد من الحرو ولد الزنا من ولد الرشدۃ والا عمٰی من البصیر فالحکم بالضد۔ اھ ۔(1/414)
وفی الجامع الصحیح للبخاری : عن أبي ذر رضي الله عنه أنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم أنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول: ليس من رجل ادعى لغير أبيه وهو يعلمه إلا كفر، ومن ادعى قومًا ليس له فيهم فليتبوأ مقعده من النار (صحيح البخاري 4/180)
وفی فتح الباری لابن حجرالعسقلاني : وفي الحديث تحريم الانتفاء من النسب المعروف، والادعاء إلى غيره، وقيد في الحديث بالعلم، ولا بد منه في الحالتين، إثباتاً ونفياً، لأن الإثم إنّما يترتب على العالم بالشيء المتعمد له، انتهى.( 6/541)