محترم مفتی صاحب دامت برکاتہم!قربانی کے ایام میں یہ مشاہدہ کیا جاتا ہے کہ بہت سے افراد اپنے قربانی کے جانوروں کو ذبح کرتے وقت ویڈیوز بناتے ہیں، ان ویڈیوز میں جانور کے تڑپنے اور خون بہنے کے مناظر واضح طور پر دکھائے جاتے ہیں،براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ اس طرح کی ویڈیوز بنانا کیسا ہے؟جزاکم اللہ خیراً!
واضح ہو کہ جاندار کی تصاویر اگر صرف اسکرین کی حد تک محدود ہوں، ان کا با قاعدہ پرنٹ آؤٹ نہ لیا گیا ہو تو ان تصاویر کے حرام ہونے یا نہ ہونے میں اہل علم کا اختلاف ہے ، ہماری تحقیق کے مطابق وہ تصاویر محرمہ میں داخل نہیں، چنانچہ فوٹو گرافی کے بعد اگر اسکا پرنٹ آؤٹ نہ لیا جاتا ہو تو ایسی صورت میں تصاویر بنانے کی شرعاً گنجائش ہے، مگر موجودہ دور میں تصویر کشی اور ویڈیوز بنانا جس قدر عام ہو رہا ہے ،اس سے عوام الناس کے دل سے تصویر کی حرمت اور اسکی برائی نکلتی جارہی ہے ، اس لیے اس کو ضرورت کی حد تک محدودرکھنا چاہیے،لہذا صورتِ مسؤلہ میں جانوروں کو ذبح کرتے وقت ان کے تڑپنے اورخون بہنے کی ویڈیو بنانے سے اگراس تکلیف دہ مناظر کی تشہیر کرنا مقصود ہوتو ایسی ویڈیوبنانا انتہائی ناپسندیدہ اور لایعنی عمل ہے ،لہذا اس قسم کی ویڈیوز بنانے سے احتراز کرنا چائیے، البتہ اگراس سے مقصود جانور کی ویڈیو کو اپنے پاس یادگار کے طور پر محفوظ کرنا ہو تو ایسی ویڈیو بنانے کی گنجائش ہے۔
کما فی تکملۃ فتح الملہم: أما التلفزیون والفدیو فلا شك فی حرمۃ استعمالہما بالنظر إلی ما یشتملان علیہ (الی قولہ)أما الصورۃ التي لیس لہا ثبات واستقرار ولیست منقوشۃ علی شئ بصفۃ دائمۃ، فإنہا بالظل أشبہ منہا بالصورۃ ویبدو أن صورۃ التلفزیون والفیدیو لا تستقر علی شئ في مرحلۃ من المراحل إلا إذا کان في صورۃ ’’فیلم‘‘ فإن کانت صور الإنسان حیۃ بحیث تبدو علی الشاشۃ في نفس الوقت الذي یظہر فیہ الإنسان أمام الکیمرا، فإن الصورۃ لا تستقر علی الکیمرا ولا علی الشاشۃ وإنما ہي أجزاء کہربائیۃ تنتقل من الکیمرا إلی الشاشۃ وتظہر علیہا بترتیبہا الأصلي ثم تفنی وتزول (إلی قولہ) وعلی ہذا: فتنزیل ہذہ الصورۃ منزلۃ الصورۃ المستقرۃ مشکل اھ (4/164)۔