گناہ و ناجائز

انٹرنیٹ کلب کا کاروبار کرنا

فتوی نمبر :
82772
| تاریخ :
0000-00-00
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

انٹرنیٹ کلب کا کاروبار کرنا

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا انٹرنیٹ کلب کا کاروبار ہے ایک سال سے، میں نے غیر اخلاقی جگہوں کو بند کر دیا ہے ایک طریقے سے اور میں ایسے لوگوں کی ہمت افزائی بھی نہیں کرتا، میں نے تحریری طور پر بھی لکھ رکھا ہے کہ اس قسم کی چیزوں کی اجازت نہیں ہے، کیا اس طرح یہ کاروبار حلال ہےیا نہیں؟ کیا اس کی جگہ کمپیوٹر پر لکھا تصویریں بنانا اور پڑھنا بہتر ہیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں سائل کا اپنے انٹرنیٹ کلب میں مذکور شرائط کے ساتھ کاروبار کرنا اور کمپیوٹر استعمال کرنے کی اجازت دینا جائز اور درست ہے، تاہم اُسے چاہیئے کہ ان شرائط میں یہ بھی اضافہ کرے کہ غیر شرعی امور اور ایسی ویب سائٹ پر جانے کی اجازت نہیں اور اس کام اور شرائط پر عمل کرانے کے لئے نگران بھی مقرر کر دے تو یہ زیادہ بہتر ہے۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
مفتی عبد اللہ شوکت صاحب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 82772کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات