میں بائیس سال کا ہوں، اور امریکہ میں رہتا ہوں، میں مصیبت میں ہوں، اور راہ نمائی چاہتا ہوں کہ میرے ایک غیر مسلم عورت سے جنسی تعلقات تھے ، ہم ایک دوسرے کے ساتھ دو سال اور پانچ ماہ رہے، ایک سال پہلے ہم نے باہمی رضامندی سے جنسی تعلقات کو ختم کر دیا، لیکن دوستی رہی، اب مجھے فیصلہ کرنا ہےکہ اس کے ساتھ رہوں ہمیشہ کے لئے یا چھوڑ دوں وہ مسلمان ہونے پر تیار نہیں ہے، میں اس کے فیصلے کی قدر کرتا ہوں، اور اس سے محبت کرتا ہوں، مجھے بتایا جائے کہ میں اس کے ساتھ رہوں یا چھوڑ دوں، گو کہ یہ بہت مشکل اور جان لیوا ہوگا۔ کیونکہ میں ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ مجھے سب سے بڑا خوف ہے کہ میں کسی مسلمان سے محبت کر بیٹھوں لیکن جو کچھ میں کیا ہے، اس کی رضامندی سے ہوا ہے، مجھے اپنے مستقل ساتھی کو سب کچھ بتانا گا، یا اس کو چھپا لوں؟ کیا یہ درست ہے اللہ کی نظر میں کہ کسی دوسری عورت سے محبت کی جائے اور ہم خیال کیا جائے اور پھر ایک دم اس کو چھوڑ دیا جائے مصیبت اور غم میں۔ مجھے اسلامی نصیحت درکار ہے۔
صورتِ مسئولہ میں سائل نے ایک غیر مسلمہ کے ساتھ اپنے تعلقات کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے یہ سب ناجائز اور حرام ہوا ہے کیونکہ کسی بھی غیر محرم عورت کے ساتھ بے تکلف ہونا خواہ وہ مسلمہ ہو یا غیر مسلمہ بہرحال نا جائز ہے۔
لہذا اولاً تو سائل پر واجب ہے کہ وہ اپنے ان تعلقات کو یک ختم کر دے اور اب تک جو گناہ ہوا ہے اس پر صدقِ دل سے توبہ و استغفار کرے اور آئندہ کے لئے ایسے امور سے مکمل اجتناب کرے ۔ اور ثانیاً یہ کہ اپنے والدین کے ذریعہ اپنی برادری یا غیر برادری کی کسی مناسب، شریف النفس، خوبصورت، خوب سیرت لڑکی کا انتخاب کرکے اس سے شادی کرے اور اس سلسلہ کی تمام تر صلاحیتوں کو اس پر صرف کرے۔