کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص اکثر بچوں کو قرآن خوانی کے لئے اپنے گھر لے جاتے ہیں ، بعد میں کچھ ضیافت بھی کرتے ہیں ،اور یہ شخص ضیافت اور قرآن خوانی کو لازم وملزوم نہیں سمجھتے، جبکہ قرآن خوانی کبھی کبھار کراتے ہیں، اور ضیافت اکثر کرتے ہیں، مسئلہ دریافت طلب یہ ہے کہ اس طرح قرآن خوانی اور ضیافت کرنا جائز ہے یا نہیں؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
سوال میں مذکور صورت میں اگر واقعۃً صرف خیر وبرکت کے لئے طلباء کو گھر پر بلایا جاتا ہو، اور ان سے گھر کی خیر وبرکت کے کے کچھ پڑھوا کر اس کے بعد ان کا کچھ اکرام کیا جاتا ہو تو یہ صورت بظاہر قرآن خوانی کا عوض نہیں، اس لئے یہ فریقین کے حق میں جائز اور درست ہے۔