گناہ و ناجائز

طلباء کو گھر بلا کر خیر وبرکت کے لئے کچھ پڑھوا کر اکرام کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
83029
| تاریخ :
0000-00-00
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

طلباء کو گھر بلا کر خیر وبرکت کے لئے کچھ پڑھوا کر اکرام کرنے کا حکم

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص اکثر بچوں کو قرآن خوانی کے لئے اپنے گھر لے جاتے ہیں ، بعد میں کچھ ضیافت بھی کرتے ہیں ،اور یہ شخص ضیافت اور قرآن خوانی کو لازم وملزوم نہیں سمجھتے، جبکہ قرآن خوانی کبھی کبھار کراتے ہیں، اور ضیافت اکثر کرتے ہیں، مسئلہ دریافت طلب یہ ہے کہ اس طرح قرآن خوانی اور ضیافت کرنا جائز ہے یا نہیں؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں مذکور صورت میں اگر واقعۃً صرف خیر وبرکت کے لئے طلباء کو گھر پر بلایا جاتا ہو، اور ان سے گھر کی خیر وبرکت کے کے کچھ پڑھوا کر اس کے بعد ان کا کچھ اکرام کیا جاتا ہو تو یہ صورت بظاہر قرآن خوانی کا عوض نہیں، اس لئے یہ فریقین کے حق میں جائز اور درست ہے۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبد النافع رؤوف عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 83029کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات