ایک عورت جو کہ شوہر پر حرام ہو چکی ہے ، لیکن کسی بھی طریقے سے شوہر کو چھوڑتی نہیں، کیا شوہر اس سے جان چھڑانے کی خاطر اس کو زہر سے کسی طریقے سے قتل کر سکتا ہے ؟
واضح ہو کہ بیوی یا کسی بھی دوسرے شخص کو بلا وجہِ شرعی قتل کرنا جائز نہیں، جس سے احتراز واجب ہے۔ البتہ شخصِ مذکور کی بیوی اگر واقعۃً اس پر حرام ہو چکی ہو تو اس پر لازم ہے کہ وہ فوراً اس سے علیحدگی اختیار کرے ،اسے نرمی سے سمجھا کر یا خاندان کے بڑوں کے ذریعہ (اصل واقعہ کی وضاحت کرکے ) اُسے اپنے سے الگ کر دے ، اس کے باوجود بھی اگر وہ الگ رہنے پر آمادہ نہ ہو تو ایسی صورت میں قانونی چارہ جوئی کے ذریعہ بھی وہ مذکور عورت کو الگ کرنے کا مجاز ہے، اور اسے ایسا ہی کرنا چاہیئے۔
قال الله تبارك وتعالى : وما كان لمؤمن ان يقتل مؤمنا الا خطأ : الآية (سورة النساء: ٩٢٠ ) ۔
و في الدر المختار: بل يجب على القاضي التفريق بينهما (وتجب العدة بعد الوطء) لا الخلوة للطلاق لا للموت (من وقت التفريق) أو متاركة الزوج اھ (3/ 133)۔