مباحات

رہن رکھوانے اور اس کی اجرت لینے کا حکم

فتوی نمبر :
83250
| تاریخ :
2025-06-02
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

رہن رکھوانے اور اس کی اجرت لینے کا حکم

آج کے دور میں رہن رکھوانا کیسا ہےکیوں کے وہ کچھ اضافی رقم بھی لیتے ہیں تو کیا اضافی رقم سود ہوگی؟ رہنمائی فرما دیجئے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ قرض دہندہ کا مقروض سے مقررہ وقت پر دین کی ادائیگی کو یقینی بنانے کیلئے اس دین پر رہن اور گارنٹی کا مطالبہ کرنا اور مقروض کا اس کے پاس رہن رکھوانااور گارنٹی دینا ہر دو امور شرعاً جائز و درست ہے ،جبکہ مالِ مرہون(بطور رہن لی جانے والی چیز) کی حفاظت کی ذمہ داری اور اس کی حفاظت پر آنے والے اخراجات بھی مرتہن/قرض دینے والے کے ذمہ لازم ہوں گے، البتہ مال مرہون کی بقا اور اس کی مصلحت سے متعلق اخراجات( جیسے جانور کا چارہ وغیرہ ) کی ادائیگی راہن کے ذمہ لازم ہوں گے،لہذا صورتِ مسئولہ میں آج کے دور میں بھی قرض خواہ کا قرض کی وصول یابی کو یقینی بنانےکیلئے رہن رکھوانے کا مطالبہ کرنا اور مقروض کا رہن رکھوانا ہر دو مورشرعاً جائز و درست ہے، لیکن اگر مرتہن اس پر حفاظتی خرچہ یا سروس وغیرہ کے نام سے فیس یا اضافی رقم دینے کا مطالبہ کرتا ہو توسود ہونے کی بناء پراس کا اضافی رقم کایہ مطالبہ کرنا اور اس کا وصول کرنا ناجائز و حرام ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: (ھو) لغۃ: حبس الشئ وشرعاً (حبس شئی مالی) أی جعلہ محبوسا ھو المرتہن (بحق یمکن استیفاؤہ) أی أخذہ (منہ) کلا أو بعضا کأن کان قیمۃ المرھون أقل من الدین (کالدین) کاف الاستقصاء لأن العین لایمکن استیفاؤھا من الرھن الا إذا صار دینا حکما کما سیجئی (حقیقۃ) وھو دین واجب ظاھرا وباطنا أو ظاھرا فقط کثمن عبد أو خل وجد حرا أو خمرا (أو حکما) کالأعیان (المضمونۃ بالمثل أو القیمۃ کما سیجئی) کونہ إلخ( کتاب الرھن، ج: 6، ص: 477۔478، ط: سعید )۔
وفیہ أیضاً: (وأجرۃ بیت حفظہ وحافظہ) ومأوی الغنم (علی المرتھن وأجرۃ راعیہ) أو حیوانا (ونفقۃ الرھن والخراج والعشر (علی الراھن) والأصل فیہ أن کل ما یحتاج إلیہ لمصلحۃ الرھن بنفسہ وتبقیتہ فعلی الراھن لأنہ ملکہ وکل ماکان لحفظہ فعلی المرتھن لأن حبسہ لہ، واعلم أنہ لایلزم شیئ منہ لو اشترط علی الراھن قھستانی عن الذخیرۃ إلخ۔
وفی الرد تحت: (قولہ شئی منہ) أی مما یجب علی المرتھن، وفی الجوھرۃ: لو شرط الراھن للمرتھن أجرۃ علی حفظ الرھن لایستحق شیئا لأن الحفظ واجب علیہ بخلاف الودیعۃ لان الحفظ غیر واجب علی المودع إلخ(کتاب الرھن، ج: 6، ص: 487، ط: سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عمر فاروق شیر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 83250کی تصدیق کریں
0     572
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات