مباحات

ملازم کی تاخیر کی وجہ سے تنخواہ سے کٹوتی کرنا

فتوی نمبر :
83832
| تاریخ :
2025-06-30
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

ملازم کی تاخیر کی وجہ سے تنخواہ سے کٹوتی کرنا

محترم مفتی صاحب،دارالافتاء،جامعہ بنوریہ،السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته!میں ایک نجی ادارے کے ہیومن ریسورس (HR) ڈیپارٹمنٹ میں بطور افسر خدمات انجام دے رہا ہوں۔ ہمارے ادارے کا وقتِ کار صبح 9 بجے سے شام 6 بجے تک مقرر ہے۔ تاہم، ملازمین کی سہولت کے لیے آدھے گھنٹے کی نرمی رکھی گئی ہے، یعنی 9:30 بجے تک آنے والوں کو لیٹ تصور نہیں کیا جاتا،افسوس کے ساتھ عرض ہے کہ اکثر ملازمین اس سہولت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں اور 11 یا حتیٰ کہ 12 بجے تک دفتر آتے ہیں، جس سے ادارے کے نظم و ضبط اور کارکردگی پر برا اثر پڑ رہا ہے،لہٰذا، ادارے کی سطح پر دو تجاویز زیر غور ہیں:اگر کوئی ملازم 3 دن مسلسل تاخیر سے آئے تو اس کی ایک دن کی تنخواہ کاٹی جائے۔تاخیر کے منٹس یا گھنٹوں کے حساب سے تنخواہ میں سے اتنی رقم کاٹی جائے۔ہم اس بارے میں دارالافتاء کی شرعی رہنمائی کے خواہاں ہیں کہ:کیا مذکورہ بالا پالیسیاں شرعی لحاظ سے درست ہیں؟تاخیر کے منٹس کے حساب سے تنخواہ کی کٹوتی جائز ہے؟اس کا بہتر اور شرعی حل کیا ہو سکتا ہے؟براہ کرم راہنمائی فرمائیں،جزاکم اللہ خیراً۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ کسی بھی کمپنی یا ادارے کے ساتھ متعین اوقات میں کام کرنے کے لیے کیا جانے والا معاہدہ فقہی اعتبار سے عقد اجارہ کہلاتا ہے جس میں اجیر خاص (کام کرنے والا شخص) مقررہ مدت میں اپنی خدمات اسی ادارے کو فراہم کرنے کا پابند ہوتا ہے، اور اسی بنیاد پر وہ اجرت کا مستحق ہوتا ہے اور اجیر خاص جتنا وقت کام کرے گا، اسی کے مطابق وہ اجرت کا مستحق قرار پائے گا اور جن اوقات میں وہ تاخیر سے آئے یا غیر حاضر رہے تو شرعا وہ ان اوقات کی اجرت کا حقدار نہیں بنتا ، لہذا صورت مسئولہ میں اگر ملازم تاخیر کرتا ہے، تو جتنی تاخیر ہوئی ہے اسی کے مطابق اس وقت کی اجرت کی کٹوتی کرنا ادارے کی طرف سے شرعا جائز و درست ہے، البتہ مقررہ وقت سے زائد کٹوتی کرنا تعزیر مالی کے زمرے میں آنے کی وجہ سے شرعا جائز نہیں، پس ادارے یا کمپنی کو چاہیے کہ صرف منٹوں یا گھنٹوں کی تاخیر کی صورت میں انہیں تاخیری اوقات کے حساب سے اجرت کی کٹوتی کرے، اگر ملازم پورا دن غیر حاضر رہے تو اس دن کی مکمل اجرت کاٹی جا سکتی ہے، البتہ چند گھنٹوں کی تاخیر کی وجہ سے پورے دن کی اجرت کا کاٹنا شرعا درست نہیں جس سے اجتناب لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: (والثاني) وهو ‌الأجير (‌الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل۔ (کتاب الاجارہ، باب ضمان الاجیر، مبحث الاجیر الخاص،ج:6 ، ص:69 ،ط: سعید)۔
و فی رد المحتار: وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل، فتاوى النوازل (قوله: وليس للخاص أن يعمل لغيره) بل ولا أن يصلي النافلة. قال في التتارخانية: وفي فتاوى الفضلي وإذا استأجر رجلاً يوماً يعمل كذا، فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة، وفي فتاوى سمرقند: وقد قال بعض مشايخنا: له أن يؤدي السنة أيضاً. واتفقوا أنه لا يؤدي نفلاً، وعليه الفتوى (الی قولہ) (قوله: ولو عمل نقص من أجرته إلخ) قال في التتارخانية: نجار استؤجر إلى الليل فعمل لآخر دواة بدرهم وهو يعلم فهو آثم، وإن لم يعلم فلا شيء عليه، وينقص من أجر النجار بقدر ما عمل في الدواة الخ۔ (کتاب الاجارۃ،ج:6،ص:70،ط:سعید)
وفی شرح المجلۃ: لایجوز لأحد أن یاخذ مال أحد بلا سبب شرعي الخ۔ (ج:1،ص:264،مادۃ: 97، ط: رشیدیہ)۔
وفی البحر الرائق: وفي شرح الآثار: التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ. والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال".(ج:5، ص:41، فصل فی التعزیر،ط: سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالھادی شعیب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 83832کی تصدیق کریں
0     560
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات