السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ہم ایک کار واش اسٹیشن چلاتے ہیں۔ بعض اوقات ڈرائیور حضرات اپنی مرضی سے تھوڑی مقدار میں ڈیزل نکال کر صفائی کے لئے ہمارے ملازمین کو دے دیتے ہیں۔ گاڑی کے لوہے پر مارنے کے لئے۔ہم یہ ڈیزل نہ مانگتے ہیں، نہ اس پر کوئی رقم لیتے ہیں، صرف گاڑی دھونے کی اجرت لیتے ہیں۔کبھی یہ ڈیزل مکمل استعمال نہیں ہوتا اور کچھ بچ جاتا ہے۔ ڈرائیور حضرات نہ تو اسے واپس مانگتے ہیں، نہ کہتے ہیں کہ رکھ لو یا نہ رکھو، اور نہ بعد میں اس کے بارے میں کچھ پوچھتے ہیں۔ میں خود اکثر موجود نہیں ہوتا، ملازمین ہی یہ کام سنبھالتے ہیں، اور مجھے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ کتنا استعمال ہوا۔
سوال یہ ہے کہ کیا بچا ہوا ڈیزل ہم دوسری گاڑیوں یا اپنی مشینری (جیسے پریشر واشر یا بائیک) میں استعمال کر سکتے ہیں؟ کیا یہ امانت میں خیانت شمار ہوگا؟ اگر ہم ایسا کریں تو کیا ہماری یہ کمائی شرعاً حلال ہو گی یا مشتبہ؟ کیا اس کے لئے مالک یا کمپنی سے اجازت لینا ضروری ہے؟برائے کرم قرآن و سنت کی روشنی میں جواب دیں تاکہ آمدن پاکیزہ اور حلال ہو۔
واضح ہو کہ گاڑیوں کی سروس کے بعد اسے زنگ وغیرہ سے بچانے کے لئے لگایا جانے والا ڈیزل انتہائی معمولی مقدار میں ہوتا ہے ، لہٰذا جب کوئی ڈرائیور یا گاڑی کا مالک اپنی مرضی سے ڈیزل نکال کر دیدیتا ہے تو اس کی گاڑی پر استعمال ہونے کے بعد بچ جانے والے ڈیزل کی مقدار کی کمی کی وجہ سے عموماً لوگ اس پر توجہ نہیں دیتے اور نہ ہی واپس گاڑی کی ٹینک میں ڈالنے کا تکلف کرتے ہیں ، اس لئے اس بچ جانے والے ڈیزل کو سائل یا اس کے ملازمین اپنے دیگر استعمال میں لاسکتت ہیں ، اور اس کی وجہ سے اس کی کمائی پر کوئی فرق بھی نہیں پڑے گا۔تاہم اگر کبھی اتفاقاً اس مقصد کے لئے لیا جانے والا ڈیزل معمول کی مقدار سے اس قدر زیادہ ہو کہ اس کے بچ جانے کی صورت میں واپسی کا مطالبہ یقینی ہو تو ایسی صورت میں مالک سے اجازت لیے بغیر اپنے استعمال لانا درست نہ ہوگا۔
کما فی المبسوط للسرخسي:(قال الشيخ الإمام الأجل الزاهد شمس الأئمة السرخسي إملاء:) (اعلم) بأن الاغتصاب أخذ مال الغير بما هو عدوان من الأسباب۔۔۔۔۔ولكن في الشرع تمام حكم الغصب يختص بكون المأخوذ مالا متقوما. ثم هو فعل محرم؛ لأنه عدوان وظلم، وقد تأكدت حرمته في الشرع بالكتاب والسنة.
أما الكتاب فقوله تعالى: {يا أيها الذين آمنوا لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم} [النساء: 29] وقال تعالى: {إن الذين يأكلون أموال اليتامى ظلما إنما يأكلون في بطونهم نارا} [النساء: 10] وقال - صلى الله عليه وسلم -: «لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيبة نفس منه» وقال - صلى الله عليه وسلم -: «سباب المسلم فسق، وقتاله كفر، وحرمة ماله كحرمة نفسه» الخ(کتاب الغصب ج:11، ص:49، ط:دار المعرفة - بيروت)۔
و فیہ ایضاً: والإذن دلالة كالإذن إفصاحا كما في شرب ماء في السقاية ونظائرها. الخ (باب بیع جلد الاضحیۃ ج12 ص18 ط: مطبع السعادۃ مصر)۔
و فی شرح السیر الکبیر: وعلى هذا لو وضع الإنسان الماء والجمد على باب داره فإنه يباحالشرب منه لكل من مر به من غني أو فقير لوجود الإذن دلالة.
وإذا غرس شجرة في موضع لا ملك فيه لأحد وأباح للناس الإصابة من ثمارها فإنه يجوز لكل من مر بها أن يأخذ من ثمارها فيتناوله. وكل ذلك مأخوذ من الحديث الذي روينا. .الخ (باب ما یجوز من النفل بعد الغنیمۃ ص800 ط: الشرکۃ الشرقیۃ - شاملۃ )۔