مباحات

کسی ویب سائٹ کی ایس ای او کرنا

فتوی نمبر :
84221
| تاریخ :
2025-07-15
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

کسی ویب سائٹ کی ایس ای او کرنا

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ! میں آن لائن کاروبار کے لیے پراڈکٹ ریسرچ اور ایس ای او (S E O)کی سروس مہیا کرتا ہوں ، میں خود ایڈز نہیں بناتا اور نہ ہی ایڈز چلاتا ہوں ،لیکن جب میں اپنا کام ڈلیور کر دیتا ہوں ،تو تقریبا ًہر کسٹمر اپنی مارکیٹنگ ایڈز میں مکس یا دوسری حرام چیزیں استعمال کرتا ہے، میرا کام صرف حلال چیزوں تک محدود ہوتا ہے، میں کسی بھی حرام چیز کا حصہ نہیں بنتا، اور نہ میں کلائنٹ کو مکس یا حرام استعمال کرنے کا مشورہ دیتا ہوں، تو کیا میری آمدنی حلال ہوگی؟ اور اگر وہ لوگ میرے کام کا استعمال کر کے حرام ایڈز بناتے ہیں، تو کیا قیامت کے دن میں بھی ذمہ دار ہوں گا؟جبکہ میں نے انہیں نہ اس کا مشورہ دیا ہےاور نہ ہی میں ان ایڈز کا حصہ ہوں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت ِمسئولہ میں سائل کے بیان کے مطابق اپنے مذکور کاروبار میں جب وہ کسی بھی حرام چیز کے درمیان واسطہ نہ بنتا ہو اور نہ ہی آگاہی دیتا ہو، بلکہ اس کا کام صرف حلال چیزوں تک محدود ہو ،تو دوسرے کسٹمرز کا حرام یا مکس چیزوں کے استعمال کرنے سے اس کی آمدنی پر کوئی اثر نہیں پڑےگا، بلکہ اس کی آمدنی حلال ہوگی،اور ان کے غلط استعمال کا گناہ اور وبال بھی ان ہی پر ہو گا، لہذا سائل کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔

مأخَذُ الفَتوی

کماقال اللہ تعالیٰ : وَ تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوَى وَ لَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ اتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ (المائدہ /2)۔
و فی الھندیۃ: و لو اظھر المستأجر فی الدار شیئا من أعمال الشر کشرب الخمر و أکل الربا أو الزنی أو اللواطۃ فإنہ یأمر بالمعروف و لیس للآجر و لا للجیران أن یخرجوہ من الدار و کذالک لو إتخذ دارہ مأوی للصوص الخ (کتاب الاجارۃ الباب التاسع فی فسخ الاجارۃ ج:4ص:463 ط: ماجدیۃ)۔
و فیھا أیضا: إذا إستأجر الذمی من المسلم بیتا لیبیع فیہ الخمر جاز عند أبی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی خلافا لھما الخ (کتاب الاجارۃ الفصل الرابع فی فساد الإجارۃ ج:4،ص:449،ط:ماجدیۃ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محسن نثار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 84221کی تصدیق کریں
0     267
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات