کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کا ایک جنگل ہے، یہ جنگل اس کو وراثت میں ملی ہے، یا اس نے خریدا ہے، اب کوئی کہے کہ جنگل کسی کی ملکیت نہیں ہوتی ہے، اور اس جنگل سے لکڑی وغیرہ استعمال کرتے ہیں، توکیا یہ جائز ہے یا نہیں؟
۲: اور اس جنگل میں جو مویشی چرتے ہیں، غیر لوگوں کے, تو ان لوگوں سے قلنگ لینا یعنی پیسے لینا مویشیوں کے چرنے کے جائز ہے یا نہیں؟ اور مذکورہ جنگل سے مالک کی زمین بھی متصل ہے کھیتی باڑی کرتا ہو ؟
واضح ہو کہ کسی شخص کی مملوکہ زمین یا جنگل سے مالک کی اجازت کے بغیر لکڑی لینا شرعاً نا جائز اور حرام ہے،تاہم اس زمین میں موجود خود رو گھاس کی اگر لوگوں کو ضرورت ہو ،اور یہ ضرورت کسی دوسری جگہ سے باآسانی پوری نہ ہو سکتی ہو تو اس صورت میں مالک یا تو خود وہ گھاس کاٹ کر دیدیا کرے ،یا پھر انہیں اپنی زمین کے اندر آنے کی اجازت دیدے ،تا کہ وہ لوگ بقدرِ ضرورت مذکور گھاس لے لیا کریں۔
جبکہ مذکور جنگل اور زمین مملوک ہو نے کی وجہ سے اگر مالک اپنی زمین استعمال کے لئے دینے پر اجرت مقرر کرے ،تو شرعاً اس کی گنجائش ہے،البتہ اگر ان جنگلات وغیرہ کے مملوک ہونے کے باوجود ان سے لکڑیاں اور درختوں کا کاٹنا سرکاری طور پر منع ہو تو اس کی مکمل صراحت کے بعد دوباره حکم شرعی بھی معلوم کیا جا سکتا ہے۔
كما في الدر المختار: لحديث أحمد «المسلمون شركاء في ثلاث في الماء والكلإ والنار» (وحكم الكلإ كحكم الماء فيقال للمالك إما أن تقطع وتدفع إليه وإلا تتركه ليأخذ قدر ما يريد) زيلعي. (کتاب مطبع ایچ ایم سعيد بكر الشي. في الشرب (6/ 440)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله والكلأ) هو ما ينبسط وينتشر ولا ساق له كالإذخر ونحوه والشجر ما له ساق، فعلى هذا الشوك من الشجر لأن له ساقا، وبعضهم قالوا الأخضر، وهو الشوك اللين الذي يأكله الإبل كلأ والأحمر شجر وكان أبو جعفر يقول: الأخضر ليس بكلإ، وعن محمد فيه روايتان، ثم الكلام في الكلأ على أوجه أعمها ما نبت في موضع غير مملوك لأحد، فالناس شركاء في الرعي والاحتشاش منه كالشركة في ماء البحار وأخص منه، وهو ما نبت في أرض مملوكة بلا إنبات صاحبها، وهو كذلك إلا أن لرب الأرض المنع من الدخول في أرضه اھ (6/ 440)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله فيقال للمالك إلخ) أي إن لم يجد كلأ في أرض مباحا قريبا من تلك الارض، (كتاب الاشربة ، فصل في الشرب. مطبع ایچ ایم سعيد بكر اتشی) (6/ 440).
و في الدر المختار: (استأجر أرضا ولم يذكر أنه يزرعها أو أي شيء يزرعها) فسدت إلا أن يعم كتاب الإجارة باب الاجارة الفاسدة، (مطبع ایچ ایم سعيد بكر اتشي. (6/ 60، 61)۔
و في الفتاوى الهندية: ولا بد في إجارة الأراضي من بيان ما يستأجر له من الزراعة والغرس والبناء وغير ذلك فإن لم يبين كانت الإجارة فاسدة إلا إذا جعل له أن ينتفع بها كما شاء هكذا في البدائع كتاب الاجارة، الباب الخامس عشر في بيان ما يجوز من الأجارة وما لا يجوز ، مطبع مكتبه ما جديد کوئٹہ، (4/ 440)۔