مباحات

طبیعت خرابی کے دوران سنبھالنے کیلئے والدہ کے ہاتھ باندھنا

فتوی نمبر :
84272
| تاریخ :
2025-07-16
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

طبیعت خرابی کے دوران سنبھالنے کیلئے والدہ کے ہاتھ باندھنا

اسلام وعلیکم
میری امی 70 سال کی ہیں طبیعت بہت زیادہ خراب ہے ۔ پیمپر اور پشاب کی نلکی لگی ہے لیکن وہ بار بار اپنے کپڑے اتار نا اور باقی سب نوچنا ، بہت غصہ کرنا ۔ صحیح سے بول بھی نہیں سکتیں ہیں ۔۔۔ بہت غلاظت پھیلتی ہے ۔۔ کیا ان کے ہاتھ باندھنا صرف ان کی بہتری کا سوچ کر جائز ہوگا۔۔ پانی کی کمی اور خیال رکھنے والے کی اپنی پریشانیاں بھی ہے

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ صورتِ مسئولہ میں سائلہ کا اپنی والدہ کے ساتھ مذکوررویہ اختیار کرنے کی وجہ ان کی بیماری ہو،اورمقصد ان سے ایذاء وتکلیف کودورکرنا ہو،اورکسی قسم کی بے ادبی اوربے اکرامی کاقصد نہ ہو،توایسی صورت میں بقدرِضرورت سائلہ کیلئے ایسارویہ اختیار کرنے کی شرعاًگنجائش ہے،اورامیدہےکہ سائلہ گناہگار بھی نہ ہوگی،تاہم اس کے باوجودبھی اگرسائلہ اپنی والدہ کے ساتھ پیارومحبت اورنرمی سے پیش آئے،تویہ دوگنے اجراورسعادت کاباعث ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی القرآن الکریم: وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاؕ اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا (الاسراء،23،24)
وفی احکام القرآن: فقال وقضى ربك ألا تعبدوا إلا إياه وبالوالدين إحسانا ‌ثم ‌بين ‌صفة ‌الإحسان ‌إليهما بالقول والفعل والمخاطبة الجميلة على وجه التذلل والخضوع ونهى عن التبرم والتضجر بهما بقوله فلا تقل لهما أف ونهى عن الإغلاظ والزجر لهما بقوله ولا تنهرهما فأمر بلين القول والاستجابة لهما إلى ما يأمرانه به ما لم يكن معصية ثم عقبه بالأمر بالدعاء لهما في الحياة وبعد الوفاة وقد روي عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه عظم حق الأم على الأب وروى أبو زرعة بن عمرو بن جرير عن أبي هريرة قال جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله من أحق الناس بحسن صحابتي قال أمك قال ثم من قال ثم أمك قال ثم من قال ثم أمك قال ثم من قال ثم أبوك۔(باب برّالوالدین،ج:3،ص:197،الناشر:سھیل اکیڈمی ،لاھور۔)
وفي المرقاة: ‌وقال ‌النووي: ‌معناه ‌أن ‌برهما ‌عند ‌كبرهما وضعفهما بالخدمة والنفقة وغير ذلك سبب لدخول الجنة، فمن قصر في ذلك فاته دخول الجنة. وقال الطيبي، (ثم) في قوله: ثم لم يدخل الجنة استبعادية يعني: ذل وخاب وخسر من أدرك تلك الفرصة التي هي موجبة للفلاح والفوز بالجنة، ثم لم ينتهزها، وانتهازها هو ما اشتمل عليه قوله تعالى: {وبالوالدين إحسانا إما يبلغن عندك الكبر أحدهما أو كلاهما} [الإسراء: 23] إلى قوله: {وقل رب ارحمهما كما ربياني صغيرا} [الإسراء: 24] (باب البرّوالصلۃ،ج:9،ص:649 ،م: حقانیۃ۔)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عمر فاروق غفور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 84272کی تصدیق کریں
0     258
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات