السلام علیکم
محترم جناب ! میرا سوال ہے کہ میں AI کی مدد سے جانوروں کی صرف شکل بلیک اینڈ وائٹ لوگو کی صورت میں AI سے generate کرواتا ہوں، جو اُن کی اصلی حالت میں تھوڑی بُہت ڈیزائن کی ہوئی ہوتی ہے، البتہ وہ SVG file کی شکل میں ہوتی ہے، خریدنے والے اسے ٹی شرٹ اور کپ وغیرہ میں اس کا پرنٹ لگاتے ہیں جو کہ پاکستان سے باہر کے لوگ ہوتے ہیں (غیر مسلم)، یہ میں ایک آن لائن مارکیٹ (پلیٹ فارم) میں بیچتا ہوں، کیا اس کی کمائی حلال تصّور کی جائے گی یا حرام؟ رہنمائی فرمائیں۔ آپ کا بہت شکریہ
واضح ہو کہ کسی کاغذ،دیواریاتختہ وغیرہ پر انسان یا کسی بھی جاندار کے چہرے کی ایسی تصویربنانا جائزنہیں جس میں کان، ناک وغیرہ تمام اعضاءاس طرح موجود ہوں ، جونمایاں طور پر کسی شکل و صورت کی نمائندگی کررہےہوں ۔تاہم ایسی چیزکی مصوری کمپیوٹراسکرین پرکرناجس کوخارج میں دیکھنے کی اجازت ہے، اس میں معاصرفقہاءِ کرام کے درمیان اختلاف پایاجاتاہے، اگرچہ بعض فقہاءِ کرام اس کی گنجائش دیتے ہیں اورہمارے دارالافتاء کارجحان بھی اس کے جائزہونے کاہے،اس لیے ”سیوفائلز“کی شکل میں ایسےجاندار یاافرادجنہیں خارج میں دیکھناجائزہے، ان کا”لوگو“یا”تصاویر“ڈیزائن کرنے کی گنجائش ہے، لیکن اگرسائل کویقین ہوکہ لوگ اس کی بنائی تصویریالوگوکوباقاعدہ کپڑے ،کپ یادیگرچیزوں پرپرنٹ کرکے استعمال کریں گے جوسب فقہاء کے نزدیک تصویرِمحرم میں داخل ہے،تواس صورت میں اعانت علی المعصیۃ کے شبہ کی وجہ سے اس کام کوذریعۂ معاش کے طورپراختیارکرنے سے گریزکرنازیادہ مناسب اورافضل ہے۔
کما فی صحیح مسلم : عن سعيد بن أبي الحسن، قال: جاء رجل إلى ابن عباس، فقال: إني رجل أصور هذه الصور، فأفتني فيها، فقال له: ادن مني، فدنا منه، ثم قال: ادن مني، فدنا حتى وضع يده على رأسه، قال: أنبئك بما سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «كل مصور في النار، يجعل له، بكل صورة صورها، نفسا فتعذبه في جهنم» وقال: «إن كنت لا بد فاعلا، فاصنع الشجر وما لا نفس له»، فأقر به نصر بن علي. (کتاب اللباس والزینة، باب لا تدخل الملائكة بيتا فيه كلب ولا صورة، رقم الحدیث:99، ج: 3 ، ص: 1670، ط: داراحیاء التراث العربی)۔
وفی رد المحتار : تحت (قولہ ولبس ثوبا فیہ تماثیل) (الی قولہ) وظاهر كلام النووي في شرح مسلم: الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال؛ لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيرها اھ (كتاب الصلاة، مطلب: مكروهات الصلاة، ج:1، ص:647 ، ط: سعید)ـ