مباحات

تدریس سے ہٹانے کے بعد مدرس کو تنخواہ دینا

فتوی نمبر :
84725
| تاریخ :
2025-07-29
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

تدریس سے ہٹانے کے بعد مدرس کو تنخواہ دینا

ایک مدرس، جو ایک دینی ادارے میں تدریسی خدمات انجام دے رہے تھے، اُنہیں چند طلبہ کی ناپسندیدگی کی بنیاد پر تدریس سے روک دیا گیا، مگر مہتمم صاحب نے زبانی طور پر یہ کہا کہ “جب تک دوسری جگہ کا انتظام نہ ہو جائے، تنخواہ جاری رہے گی، چاہے ایک سال لگ جائے”، اور کچھ دیگر غیر تدریسی کاموں کی طرف توجہ دلائی۔ مدرس نے بعد ازاں شدید ذہنی و جسمانی دباؤ کے باعث ادارے سے باہر رہ کر متبادل جگہ تلاش کرنے کی اجازت مانگی، لیکن نہ استعفیٰ دیا اور نہ کسی ضابطے کی خلاف ورزی کی۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا مدرس اس دوران تنخواہ کا شرعاً حقدار ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں اگر مذکور مدرس کو نااہل ہونے کی وجہ سے معزول کردیا گیاتھا تو شرعاً وہ معاہدہ کے بقیہ دنوں کی اجرت کا مستحق نہیں ، البتہ اگر وہ اپنےکام کی باقاعدہ اہلیت رکھتاہو ،محض چند طلباء کی ناپسندیدگی کی وجہ سے ان کو تدریس کی عمل سے روک دیا گیا ہو ،جبکہ اس نے باقاعدہ کوئی استعفیٰ بھی نہ دیا ہو اور نہ ہی کسی ضابطے کی خلاف ورزی کی ہو تو شرعاً معاہدہ کے مطابق سال کے بقیہ دنوں کی اجرت و تنخواہ کا حق دار ہوگا ۔

مأخَذُ الفَتوی

قال تعالیٰ: وَأَوۡفُواْ بِٱلۡعَهۡدِۖ إِنَّ ٱلۡعَهۡدَ كَانَ مَسۡـُٔولٗا(الإسراء: ٣٤)-
و فی الھندیۃ : ‌يصح ‌العقد ‌على ‌مدة ‌معلومة أي مدة كانت قصرت المدة كاليوم ونحوه أو طالت كالسنين، كذا في المضمرات. ويعتبر ابتداء المدة مما سمى، وإن لم يسم شيئا فهو من الوقت الذي استأجرها، كذا في الكافي.اھ (الباب الثالث في الأوقات التي يقع عليها عقد الإجارة، ج: 4، ص: 415، ناشر: دار الفکر )-
و فی شرح المجلۃ: الأجیر الخاص یستحق الأجرۃ إذا کان فی مدۃ الإجارۃ حاضراً للعمل اھ ( ج: 2، ص: 239، ناشر: مکتبۃ اسلامیۃ )-
و فی الدر المختار : ( والثانی ) و ھو الأجیر ( الخاص ) و یسمی أجیر واحد ( و ھو من یعمل لواحد عملاً مؤقتاً بالتخصیص و یستحق الأجر بتسلیم نفسہ فی المدۃ و إن لم یعمل کمن استوجر شھراً للخدمۃ أو ) اھ باب ضمان الأجیر، ج: 6، ص: 69، ناشر: سعید )-
و فی الدر المختار: و فیہ : سئل ظھیر الدین عمن استأجر رجلاً لیعمر لہ فی الضیعۃ فلما خرج لزل المطر فامتنع بسببہ ھل لہ الأجر ؟ قال لا اھ (‌‌باب ما يجوز من الاجارة وما يكون خلافا فيها أي في الاجارة، ج: 6، ص: 43، ناشر: سعید )-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
بشیر احمد جمعہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 84725کی تصدیق کریں
0     20
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات