مباحات

کالا جادو کروانے والے ساس سے بیٹے کا قطع تعلق کرنا جائز ہے؟

فتوی نمبر :
84748
| تاریخ :
2025-07-30
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

کالا جادو کروانے والے ساس سے بیٹے کا قطع تعلق کرنا جائز ہے؟

کیا کالا جادو کروانے والے سے رشتہ داری توڑنا جائز ہے؟ جبکہ وہ اپنی اس برائی کو مسلسل جاری رکھا ہوا ہو، میری ساس میری 11 سالہ شادی شدہ زندگی میں مسلسل خرابی پیدا کرتی رہی ہیں، میری دیورانی کی انہوں نے طلاق کروا دی ہے، وہ اس طرح کا کام کروا تھی ہیں کہ شوہر بیوی کے پاس جانا ہی چوڑ دیتا ہے اور اسی وجہ سے میرے شوہر نے اپنے گھر والوں سے قطع تعلقی اختیار کر رکھی ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور حقیقت پر مبنی ہو اس میں کسی طرح کی مبالغہ آرائی اور کذب بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو اور یہ بیان محض شکوک و شبہات پر بھی مبنی نہ ہو بلکہ چشم دید حقیقت ہو تو واضح ہو کہ جادو کرنا یا کروانا بدترین عمل اور کبیرہ گناہوں میں سے ہے،اور اگر اس عمل میں کفریہ الفاظ استعمال کیے جاتے ہوں یا اس کو حلال سمجھ کر کیا یا کروایا جاتا ہو تو اس کی وجہ سے انسان دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے، لہذ سائلہ اور اس کے شوہر کو چاہیئے کہ خود بھی اور خاندان کے بااثر افراد کے ذریعے اپنے ساس کو سمجھا کر اس عمل سے اس کو باز آ نے کی مکمل کوشش کرے،اور ان کو بھی چاہیئے کہ اپنے اس غلط ،خلافِ شریعت اور حرام عمل سے اجتناب کرے،اور اپنے کئے ہوئے سابقہ عمل پر بصدقِ دل توبہ واسغفار کرے، لیکن اس کے باوجود بھی اگر وہ اپنے اس گناہ کے کام سے باز نہ آئیں، تو ایسی صورت میں سائلہ اور اس کے شوہر بغرضِ اصلاح ان سے قطعِ تعلقی اختیار کرے تو شرعا ً اس کی بھی گنجائش ہے، اور اس قطعِ تعلقی کے وجہ سے وہ عند اللہ ماخوذ بھی نہ ہو گا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی احکام القرآن للجصاص: اتفق هؤلاء السلف على وجوب قتل الساحر ، ونص بعضهم على كفره واختلف فقهاء الأمصار في حكمه على ما نذكره ؛ فروى ابن شجاع عن الحسن بن زياد عن أبي حنيفة أنه قال في الساحر : " يقتل إذا علم أنه ساحر ولا يستتاب ولا يقبل قوله : إني أترك السحر وأتوب منه ، فإذا أقر أنه ساحر فقد حل دمه ، وإن شهد عليه شاهدان أنه ساحر فوصفوا ذلك بصفة يعلم أنه سحر قتل ولا يستتاب الخ( ج 1،ص 120)۔
و فی الصحیح للبخاری : باب ما یجوز من الھجران لمن عصی و قال کعب بن مالک حین تخلف عن النبیﷺ و نھی النبی ﷺ المسلمون عن کلامنا و ذکر خمسین لیلۃ الخ ( ج 2، ص 898، ط: قدیمی کتب خانہ )۔
و فی فتح الباری : باب ما یجوز من الھجران الخ أراد بھذہ الترجمۃ بیان الھجران الجائز، لان عموم النھی مخصوص بمن لم یکن لھجرہ بسبب مشروع۔ فتبین ھنا السبب المسوّغ للھجر، و ھو لمن صدرت منہ معصیۃ فیسوغ لمن اطلع علیھا منہ ھجرہ علیھا لیکف عنھا الخ ( ج 18، ص 480، ط: رشیدیہ )۔
و فی فتح الباری: قال النووي ‌عمل ‌السحر ‌حرام ‌وهو ‌من ‌الكبائر بالإجماع وقد عده النبي صلى الله عليه وسلم من السبع الموبقات ومنه ما يكون كفرا ومنه ما لا يكون كفرا بل معصية كبيرة فإن كان فيه قول أو فعل يقتضي الكفر فهو كفر وإلا فلا وأما تعلمه وتعليمه فحرام فإن كان فيه ما يقتضي الكفر كفر واستتيب منه ولا يقتل فإن تاب قبلت توبته وإن لم يكن فيه ما يقتضي الكفر عزر وعن مالك الساحر كافر يقتل بالسحر ولا يستتاب بل يتحتم قتله كالزنديق الخ ( ج 10، ص224،ط:المکتبۃ السلفیۃ،مصر)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
قائرات تبیک عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 84748کی تصدیق کریں
0     4
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات