گناہ و ناجائز

موٹرسائیکل اس شرط پر بیچنا کہ نئی بائیک خرید کر دو گے؟

فتوی نمبر :
84902
| تاریخ :
2025-08-04
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

موٹرسائیکل اس شرط پر بیچنا کہ نئی بائیک خرید کر دو گے؟

السلام علیکم، مفتی صاحب، میں نے ایک بائیک خریدی تھی ہونڈا 125 CG دو لاکھ پینتیس ہزار(235000) کی ،اور وہ میں نے کچھ وقت بعد اپنے دوست کو دیدی کیونکہ اس کو پیسوں کی ضرورت تھی اور وہ بائیک اس نے دو لاکھ دس ہزار کی آگے بیچ دی، اور ہماری یہ بات طے ہوچکی تھی کہ جب بھی تین یا چار مہینے بعد اس کے پاس پیسے آئیں گے تو وہ مجھے نئی بائیک ہی دلائے گا چاہے وہ بائیک کے ریٹ کم ہوجائیں یا زیادہ،اور اب وہ بائیک دو لاکھ اڑتیس ہزار نو سو(238900) کی ہے ، تو کیا میں بائیک کی جگہ اس سے اماؤنٹ لے سکتا ہوں یا نہیں؟ اگر میں اس سے بائیک کی جگہ نئی بائیک کی جو اماؤنٹ ہے وہ لے لوں تو یہ سود میں تو نہیں آئے گا۔براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں سائل اور اس کے دوست کے درمیان بائیک کی خرید وفروخت کا جو معاملہ ہوا تھا،اس میں چونکہ سائل نے اپنی بائیک کی قیمت طے کرکے اپنے دوست کو فروخت نہیں کی تھی بلکہ ان کے ذمہ تین چار ماہ بعد نئی بائیک دینے کی شرط عائد کی تھی،اس لئے شرعاً خرید وفروخت کے معاملہ میں ثمن مجہول ہونے اور ادائیگی کا وقت متعین نہ ہونے کی وجہ سے یہ معاملہ فاسد ہوچکا تھا،اور چونکہ معاملہ فاسد تھا اور سائل کا دوست اس بائیک کو آگے فروخت بھی کرچکا ہے، اس لئے سائل کے دوست کے ذمہ سائل کی نئی بائیک یا اس کی قیمت دینا لازم نہیں ہے،بلکہ اپنے دوست کو دیتے وقت سائل کی بائیک کی جو قیمت تھی،اتنی ہی قیمت کی ادائیگی سائل کے دوست پر لازم ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي»:
«وأما الثالث: وهو شرائط الصحة فخمسة وعشرون: منها ۔۔۔معلومية المبيع، ومعلومية الثمن بما يرفع المنازعة فلا يصح بيع شاة من هذا القطيع»(ص:505، ج:4 ط:دار الفكر بيروت)
فقه البيوع للعلامة تقي العثماني حفظه الله:
حكم البيع الفاسد أنه يجب على المتعاقدين فسخُه، ولكنّه يفيد ملكا خبيثا بعد قبض المشتري المبيع ، ويتفرّع عليه أمور آتية: . . . إن لم يبق المبيعُ في يد المشتري في البيع الفاسد، بأن هلك في يده ، أو تصرّف فيه تصرّفا يمنع الردّ، فإنه يضمن للبائع مثلَه أو قيمتَه، ويستردّ الثمن.(ص:1194، ج:2، ط:مكتبة معارف القران)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عرفان اللہ حبیب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 84902کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات