مباحات

آئی وی ایف کے ذریعہ علاج کا حکم

فتوی نمبر :
84989
| تاریخ :
2025-08-05
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

آئی وی ایف کے ذریعہ علاج کا حکم

میری عمر 44 سال ہے اور میری بیوی کی عمر 35 سال ہے، ہماری 4 بیٹیاں ہیں، پہلی بیٹی 11 سال کی ہے، دوسری بیٹی معذور ہے، چوتھی بیٹی 4 سال کی ہے۔ دو بیٹوں کی نیت اور خواہش سے ہم نے قدرتی طریقے سے کوشش کی اور بچے کی پیدائش کے لیے 2 سال تک ڈاکٹر کے چکر لگائے لیکن نصیب نہ ہوا۔ پچھلے دو مہینوں میں، ہم نے ہسپتالوں میں علاج کیا اور مکمل طبی تجزیہ کیا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ علاج کے لیے کوئی پوشیدہ مسئلہ ہے یا نہیں۔ اور ہم نے علاج پر تقریباً 10 لاکھ روپے خرچ کیے، اور اس ہفتے ڈاکٹروں نے تصدیق کی کہ ٹیوبیں بند ہیں اور ان کا علاج نہیں کیا جا سکتا اور ڈاکٹروں نے مشورہ دیا کہ اب آپ کے پاس واحد آپشن IVF ہے۔
اب، ہمارا پہلا سوال یہ ہے: ہمارے معاملے میں، کیا IVF کی اجازت ہے؟ دوسرا سوال:اگر IVF کی اجازت ہے تو کیا ہم ڈاکٹر سے درخواست کر سکتے ہیں کہ وہ ایک وقت میں دو بچے پیدا کرنے کے لیے دو ا یمبریو کو رحم میں رکھیں؟تیسرا سوال:اگر IVF کی اجازت ہے، تو کیا ہم جنس کے انتخاب کے لیے جا سکتے ہیں کیونکہ ہمیں واقعی دو یا کم از کم ایک بیٹے کی ضرورت ہے کیونکہ ہمیں بڑی عمر میں مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے اور اپنی معذور بیٹی کے لیے بھی ،کیونکہ وہ زندگی بھر شادی نہیں کر سکتی۔ جزاکم اللہ خیرا

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ I.V.F(ٹیسٹ ٹیوب بے بی) کے ذریعے حصولِ اولاد کے جتنے طرق رائج ہیں، اُن سب میں سے سخت مجبوری کے تحت صرف ایک طریقہ کی گنجائش معلوم ہوتی ہے ، وہ یہ کہ مادۂ منویہ اپنے زندہ شوہر کا ہو اور پھر شوہر اور بیوی کے نطفے کا باہم اختلاط کر کے یہ ٹیوب بیوی کے رحم میں رکھ دی جائے جہاں وہ حمل پرورش پائے ، اور یہ عمل خود بیوی یا اس کے شوہر یا کسی ماہر معالج عورت سے کرایا جائے اور اس دوران ستر و حجاب کا پورا خیال رکھا جائے کہ ضرورت سے زیادہ ہرگز نہ کھولا جائے ، لہٰذا سائل اگر نرینہ اولاد کے حصول کے لیے اس طریقہ کو اختیار کرے ، تو اس کی گنجائش ہے، اسی طرح بیک وقت رحم میں جڑواں بچوں کے حصول کےلئے دو ایمبریو رکھنا اگر ماں اور پیدا ہونے والے بچوں کےلئے طبی لحاظ سے نقصان دہ نہ ہو تو اسے بھی اختیار کیاجاسکتاہے،لیکن اگر ماں کی صحت اس کی متحمل نہ ہو اور دورانِ حمل یا بوقتِ ولادت اس کی جان کو خطرہ لاحق ہوسکتاہو تو اس سے گریز کرنا چاہیئے اس حوالے سے دیندار ماہر معالج کی رائے معتبر سمجھی جائے گی۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی تفسیر القرطبی تحت قوله تعالى:"لله ملك السماوات والأرض يخلق ما يشاء" فيه أربع مسائل: الأولى- قوله تعالى:" لله ملك السماوات والأرض" ابتداء وخبر." يخلق ما يشاء" من الخلق." يهب لمن يشاء إناثا ويهب لمن يشاء الذكور" قال أبو عبيدة وأبو مالك ومجاهد والحسن والضحاك: يهب لمن يشاء إناثا لا ذكور معهن، ويهب لمن يشاء ذكورا لا إناثا معهم،(الی قولہ) ويجعل من يشاء عقيما" أي لا يولد له،( الی قولہ) وحكى النقاش أن هذه الآية نزلت في الأنبياء خصوصا وإن عم حكمها. وهب للوط الإناث ليس معهن ذكر، ووهب لإبراهيم الذكور ليس معهم أنثى، ووهب لإسماعيل وإسحاق الذكور والإناث، وجعل عيسى ويحيى عقيمين، ونحوه عن ابن عباس وإسحاق بن بشر ( الی قولہ) وكذلك قسم الله الخلق من لدن آدم إلى زماننا هذا، إلى أن تقوم الساعة، على هذا التقدير المحدود بحكمته البالغة ومشيئته النافذة الخ ( سورۃ الشوریٰ، الایۃ 49،ج16،ص 49،ط:دار الکتب المصریۃ،القاھرۃ)۔
وفی الفقہ الإسلامی : التلقيح الصناعي : هو استدخال المني لرحم المرأة بدون جماع . فإن كان بماء الرجل لزوجته ، جاز شرعاً ، إذ لا محذور فيه ، بل قد يندب إذا كان هناك ما نع شرعي من الاتصال الجنسي . و أما إن كان بماء رجل أجنبي عن المرأة ، لا زواج بينهما ، فهو حرام الخ (القسم الاول العبادات،الباب السابع: الحظر والاباحۃ،المبحث الرابع:التلفیح الصناعی،ج4،ص2649،ط:دار الفکر)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سعید اللہ لطیف عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 84989کی تصدیق کریں
0     13
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات