مباحات

اسقاط حمل کی ایک صورت کا حکم

فتوی نمبر :
85072
| تاریخ :
2025-08-08
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

اسقاط حمل کی ایک صورت کا حکم

میں 30 دن کی حاملہ ہوں ،میرے میاں حمل ختم کرنے کی زد میں ہیں، کیونکہ وہ بیرون ملک میں ہیں، اور انکے گھر والے میرے لئے دشواریاں پیدا کرے گے، وہ خود میری کوئی مدد نہیں کر پائیں گے ، تیسری بچے کی پیدائش پر بھی مجھے شدید ردعمل ملا تھا، یہاں تک کے میں ذہنی مشکلات میں پڑ گئی تھی، اور مجھے 4 ماہ کے لے گھر چھوڑنا پڑا، میرے 3 بچے اور ہیں، تیسری بچی ابھی بھی میرا دودھ پیتی ہے،مجھے کسی حد تک کمزوری بھی ہے ،انکے مطابق مجھ پر بہت بوجھ ہے ،اگر میں اس حمل کو جاری رکھو گی، تو بچوں کی اچھی تربیت نہیں کر پاؤں گی، اپنی جان کے ساتھ ظلم کرو گی، باقی بچوں کی بھی حق تلفی ہو گی، انکے خیال میں 40 دن سے پہلے حمل ختم کرنے کی اجازت ہے، آپ کی رہنمائی کی جلد ضرورت ہے؟ شکریہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ بلاضرورت اسقاطِ حمل شرعاً جائز نہیں، بلکہ گناہ ہے، لہذا سائلہ کو اگر اس حمل کے برقرار رکھنے کی صورت میں ناقابلِ برداشت جسمانی تکلیف کا سامنا نہ ہو، اور نہ ہی اس کی وجہ سے پہلے بچوں کی صحت کو واقعی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو، تو فقط ذہنی دباؤ،گھبراہٹ ، شوہر کی اسقاطِ حمل کی ضد یا ان بچوں کی مناسب تربیت اور معاشی استحکام کی وجہ سے اسقاطِ حمل جائز نہ ہوگا۔اور سائلہ کے شوہر کو بھی چاہیئے کہ وہ بلا کسی معقول وجہ کے حمل گرانے پر ضد نہ کریں، بلکہ اس بیماری کے دوران اپنی بیوی کی معاونت کرنے اور انہیں اسی دوران سہولت دینے کی ہر ممکن کوشش کریں۔تاہم اگر درج بالا اعذار میں سے کوئی عذر پایا جاتا ہو، اور ماہر دیندار طبیب بھی اسقاطِ حمل کا مشورہ دے، تو ایسی صورت میں چار ماہ سے قبل اس حمل کو گرانے کی گنجائش ہو گی۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار : قال الكمال: فليعتبر عذرا مسقطا لإذنها، وقالوا يباح إسقاط الولد قبل أربعة أشهر ولو بلا إذن الزوج الخ
وفی الشامیۃ تحت : (قوله وقالوا یباح إلخ) قال في النهر: بقي هل يباح الإسقاط بعد الحمل؟ نعم يباح ما لم يتخلق منه شيء ولن يكون ذلك إلا بعد مائة وعشرين يوما، وهذا يقتضي أنهم أرادوا بالتخليق نفخ الروح وإلا فهو غلط لأن التخليق يتحقق بالمشاهدة قبل هذه المدة كذا في الفتح، وإطلاقهم يفيد عدم توقف جواز إسقاطها قبل المدة المذكورة على إذن الزوج. وفي كراهة الخانية: ولا أقول بالحل إذ المحرم لو كسر بيض الصيد ضمنه لأنه أصل الصيد فلما كان يؤاخذ بالجزاء فلا أقل من أن يلحقها إثم هنا إذا سقط بغير عذرها الخ (کتاب النکاح، مطلب فی حکم العزل، ج 3، ص176،ط: سعید)۔
و فی الھندیۃ : العلاج لإسقاط الولد إذا استبان خلقه كالشعر والظفر ونحوهما لا يجوز وإن كان غير مستبين الخلق يجوز وأما في زماننا يجوز على كل حال وعليه الفتوى كذا في جواهر الأخلاطي وفي اليتيمة سألت علي بن أحمد عن إسقاط الولد قبل أن يصور فقال أما في الحرة فلا يجوز قولا واحدا وأما في الأمة فقد اختلفوا فيه والصحيح هو المنع كذا في التتارخانية الخ ( کتاب الکراہیۃ، الباب الثامن عشر في التداوي والمعالجات وفيه العزل وإسقاط الولد، ج 5، ص 354،ط : ماجدیۃ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
مراد علی نمیر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 85072کی تصدیق کریں
0     184
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات