مباحات

قبر کی مرمت کرنے کے متعلق شرعی احکامات

فتوی نمبر :
85076
| تاریخ :
2025-08-08
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

قبر کی مرمت کرنے کے متعلق شرعی احکامات

1: میرے دادا کی قبر کے تختے دیمک کی وجہ سے گل گۓجسکی وجہ سے قبر کی مٹی نیچے گرنے لگی لیکن ابھی تختے باقی تھے پوری طرح سے نہیں گرے تھے تو ہم نے مٹی ہٹا کر جو پرانے تختے کچھ باقی تھے ان کے اوپر سے دوسرے تختے رکھ کر مٹی ڈال دی تو کیا ایسا کرنے سے کوئی گناہ تو نہیں ہے ۔
2: کیا پرانے تختے ہٹا کر بھی دوسرے تختے لگا سکتے ہیں ، اور اس طرح کی قبروں کو درست کرنے کا اور کیا طریقہ ہے؟
براۓ مہربانی تفصیلا جواب ارسال فرما‏ۂیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ قبر کو بلا ضرورت دوبارہ کھولنا شرعاًجائز نہیں ہے، خواہ اس میں میت کی باقیات ہوں یا نہ ہوں۔ اگر دیمک یا بارش وغیرہ کی وجہ سے قبر کا کچھ حصہ کھل جائے تو بہتر یہ ہے کہ پرانے تختوں کو جوں کا توں رہنے دیا جائے اور ان کے اوپر نئے تختے یا سلیب رکھ کر اس پر مٹی ڈال دی جائے۔ لہذا،سائل نےاپنے مرحوم داداکی قبرکے بیٹھ جانےکے بعد جو موجودہ تختوں کے اوپر نئے تختے رکھ کر مٹی ڈال دی ہے، یہ درست اور جائز ہے، اس میں کوئی گناہ نہیں۔
البتہ پرانے تختے ہٹا کر نئے لگانے میں قبر کا زیادہ کھل جانے کااندیشہ قوی ہے، اس لیے اس سے حتی الامکان اجتناب کیا جائے،تاہم ،اگر قبر کھلی نہ ہو بلکہ صرف مٹی بیٹھ گئی ہو تو اس پر مزید مٹی ڈال کر درست کر لیا جائے ،اس میں نئی سلیپ رکھنے کے لیے اسےازخودکھولنا جائزنہیں ،جس سے احترازلازم ہے ۔جبکہ قبروں کی حفاظت کے لیے قبر کے اطراف اینٹیں لگانا اور مٹی کا لیپ کر دینا مفید اور شرعاًاس کی گنجائش ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية :وإذا خربت القبور ‌فلا ‌بأس ‌بتطيينها، كذا في التتارخانية، وهو الأصح وعليه الفتوى، كذا في جواهر الأخلاطي.(1/ 166)
و فی حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي : (ولا يخرج منه) بعد إهالة التراب (إلا) لحق آدمي ك (أن تكون الأرض مغصوبة أو أخذت بشفعة)
قوله إلا لحق آدمي) احتراز عن حق الله تعالى كما إذا دفن بلا غسل أو صلاة أو وضع على غير يمينه أو إلى غير القبلة فإنه لا ينبش عليه بعد إهالة التراب كما مر(2/ 237)
وفی مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح : وإذا ‌خربت ‌القبور ‌فلا ‌بأس ‌بتطيينها لأن الرسول صلى الله عليه وسلم مر بقبر ابنه إبراهيم فرأى فيه جحرا فسده وقال: "من عمل عملا فليتقنه" وعن أنس عن النبي صلى الله عليه وسلم: أنه قال: "خفق الرياح وقطر الأمطار على قبر المؤمن كفارة لذنوبه".(ص226)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سعد جاوید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 85076کی تصدیق کریں
0     98
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات