مباحات

اگر کسی کو اپنی سچائی کا یقین ہو تو وہ قسم اٹھا سکتا ہے ؟

فتوی نمبر :
85362
| تاریخ :
0000-00-00
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

اگر کسی کو اپنی سچائی کا یقین ہو تو وہ قسم اٹھا سکتا ہے ؟

کیا فرماتے مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے بکر سے کسی کام کے کرانے کے سلسلے میں بات کی کہ اگر آپ نے میرا کام کردیا تو میں آپ کو انعام دونگا، اور انعام کی کوئی تعیین نہیں کی، اب جب بکر نے کام کر لیا، تو وہ کہہ رہا کہ آپ زید نےدس ہزار روپے دینے کا وعدہ کیا تھا، جبکہ زید کہتا ہے کہ میں نے رقم کی کوئی تعیین نہیں کی کہ ہزار ،دود ہزار، دس ہزار بلکہ یہ کہاتھاکہ انعام دونگا، لیکن بکر نہیں مان رہا، اور زید کو کہتا ہے کہ آپ اس پر قسم اٹھا ئے، اب زید جوکہ اپنی بات میں سچا ہے اور اس کو یقین ہے کہ رقم کی کوئی تعیین نہیں کی گئی تھی، کیا وہ اس پر قسم اٹھا سکتا ہے، کہیں یہ گناہ تو نہیں، اور اس انعام کے وعدے کو پورا کرنا کیا شرعا لازم بھی ہے؟
نوٹ: اس معاملہ کی کوئی گواہ نہیں ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں مذکور کام کرنے کی صورت میں اس پر انعام دینا شرعاً ضروری نہیں اور نہ ہی یہ قسم کا کوئی مسئلہ ہے، تاہم صورت مسئولہ میں مدعی کے پاس اگر واقعۃً کوئی گواہ نہ ہو، اور مدعی علیہ اس پر سچا ہونے کی وجہ سے قسم اٹھالے تو وہ گناہ گار نہیں ہوگا، اس لیے فریقین کو چاہیے کہ باہمی اتفاق اور اس کام کے سلسلہ میں مدعی کی محنت کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی ایک مقدار کو طے کرلیں، اور اس بات کو مزید طول دینے اور باہمی رنجشوں کا پیش خیمہ بنانے سے احتراز کریں۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 85362کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات