مباحات

غیر مسلم ممالک میں مقدس اوراق کو تلف کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
85614
| تاریخ :
2025-08-26
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

غیر مسلم ممالک میں مقدس اوراق کو تلف کرنے کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ، میرا مفتیان کرام سے یہ سوال ہے کہ قران کو جو ریسائیکل کا طریقہ ہے اس کے بارے میں پوچھنا ہے. میری رہائش چونکہ لندن میں ہے انگلینڈ میں اور یہاں اس طرح کوئی نظام نہیں ہے کہ قران شریف کو دفن کیا جائے .جگہ کی بھی قلت ہے اور اسی طرح جلانے کا کیا حکم ہے.مؤدبانہ گزارش ہے مفتیان کرام سے کہ اس سلسلے میں ذرا رہنمائی فرمائیں کہ قران کو کس طرح رسائی کل کر سکتے ہیں اور کس طرح اس کو محفوظ احترام کے ساتھ رکھ سکتے ہیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ قرآنِ مجید کے وہ اوراق جو بوسیدہ ہوجائیں اور قابلِ تلاوت نہ رہیں ، ا ن کے بارے میں فقہائے کرام رحمہم اللہ نے لکھا ہے کہ ان کو پاک کپڑے میں لپیٹ کر ادب کے ساتھ کسی ایسی پاک جگہ پر دفنایا جائے جہاں سے لوگوں کا عام گزر نہ ہو، یا پھر انہیں ادب کے ساتھ دریا وغیرہ پاک پانی میں بہایا جائے، اس لیے حتی الامکان ان دونوں طریقوں میں سے کسی ایک پر عمل کرنا چاہیے،جبکہ سخت مجبوری کی بناء پر ان مقدس اوراق کو جلانے کی بھی گنجائش ہے ،مگر اس سے حتی الامکان بچنا بہتر ہے۔ البتہ اگر ان پر عمل میں کوئی مشکل در پیش ہو، اور بوسیدہ اوراق کے ادھر ادھر ضائع ہونے کا اندیشہ ہو جس میں ان کی بے ادبی بھی لازم آتی ہے تو پھر مندرجہ ذیل شرائط کے ساتھ ان کی ری سائیکلنگ کی گنجائش ہے
اس ری سائیلنگ سے اصل مقصد اور نیت قرآنِ کریم کے بوسیدہ اوراق کو جا بجا پڑے رہنے، ضائع ہونے، اور بے ادبی سے بچانا ہو، صرف ایسے مقدس اوراق کی ری سائیکلنگ کی جائے جنہیں تلاوت کے لیے رکھنا اور ان میں تلاوت کرنا مشکل ہو، باقی جو قرآنِ مجید قابلِ تلاوت ہو، ان کی ری سائیکلنگ جائز نہیں ہوگی، بلکہ نئی جلد بندی کر کے ان کی حفاظت کرنااور ان کو متعلقہ جگہوں میں دوبارہ تلاوت کے لیے مہیا کرنا لازم اور ضروری ہوگا، ری سائیکلنگ کے لیے جو کیمیکل اور پانی استعمال ہو، ان میں کوئی ناپاک چیز شامل نہ ہو، ری سائیکلنگ کے عمل میں حصہ لینے والے ملازمین باوضو ہوں، اور کوئی بھی شخص قرآن کریم کو بے وضو ہونے کی حالت میں نہ چھوئیں ، جس جگہ پر مقدس اوراق کی ری سائیکلنگ ہو، اس کی صفائی کا خاص خیال رکھا جائے، ری سائیکلنگ سے پہلے مقدس اوراق کو اونچی، مناسب اور صاف ستھری جگہ مثلا ٹیبل وغیرہ پر رکھا جائے، ری سائیکلنگ کے لیے مقدس اوراق کو لا پرواہی کے ساتھ عام چیزوں کی طرح مشین میں نہ پھینکا جائے، بلکہ ادب کے ساتھ اٹھا کر پلانٹ اور مشین میں رکھا جائے، ری سائیکلنگ کے عمل میں جو پانی استعمال ہو، اسے کسی پاک دریا یا ندی وغیرہ میں بہایا جائے، عام نالیوں یا راستوں میں بہانا جائز نہیں ہوگا۔اور چونکہ ری سائیکلنگ بوسیدہ اوراق کو ٹھکانے لگانے یا محفوظ کرنے کا ایک جدید طریقہ ہے جس میں اگر مذکورہ بالا شرائط کا لحاظ کیا جائے تو اسے عرفا بے ادبی نہیں سمجھا جاتا، لہٰذا جس طرح فقہائے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے مقدس بوسیدہ اوراق کو ضیاع اور اہانت سے بچانے کے لیے دریا میں بہانے کی گنجائش دی ہے، اسی طرح اس صحیح نیت کے ساتھ مناسب اور با ادب طریقے پر ان کی ری سائیکلنگ کی بھی گنجائش معلوم ہوتی ہے، البتہ ری سائیکلنگ کے اس مکمل عمل کے دوران اول سے لیکر آخر تک قرآن کریم کی کوئی بے ادبی نہ کی جائے۔ بوسیدہ قرآن مجید اور مقدس اوراق کی ری سائیکلنگ کے بعد اصل اور بہتر یہی ہے کہ ان سے دوبارہ قرآنِ مجید اور دینی کتب کے لیے کاغذ یا گتا بنایا جائے۔ البتہ اگر ری سائیکلنگ کے بعد بننے والا مالیدہ کسی دوسرے ایسے جائز مقصد کے لیے استعمال کیا جائے جس میں بے ادبی کا کوئی پہلو نہ ہو، مثلا عام کتابیں، لفافہ وغیرہ تو اس کی بھی گنجائش ہے، کیونکہ ری سائیکلنگ کے بعد اوراق سے لکھائی اور سیاہی ختم ہوجاتی ہے ، لیکن کسی ایسے مقصد کے لیے استعمال کرنا جس میں بے ادبی کا پہلو ہو، احتراز کرنا لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في صحيح البخاري : وقال عثمان للرهط القريشيين الثلاثة: إذا اختلفتم أنتم وزيد بن ثابت في شيء من القرآن فاكتبوه بلسان قريش، فإنما نزل بلسانهم، ففعلوا، حتى إذا نسخوا الصحف في المصاحف رد عثمان الصحف إلى حفصة، وأرسل إلى كل أفق بمصحف مما نسخوا، ‌وأمر ‌بما ‌سواه ‌من ‌القرآن ‌في ‌كل صحيفة أو مصحف أن يحرق اه (باب جمع القران ،رقم الحديث:٤٩٨٧،مط :بشرى)
وفي فتح البخاري : ‌وأكثر ‌الروايات ‌صريح ‌في ‌التحريق فهو الذي وقع، ويحتمل وقوع كل منهما بحسب ما رأى من كان بيده شيء من ذلك، وقد جزم عياض بأنهم غسلوها بالماء ثم أحرقوها مبالغة في إذهابها. قال ابن بطال: في هذا الحديث جواز تحريق الكتب التي فيها اسم الله بالنار وأن ذلك إكرام لها وصون عن وطئها بالأقدام.اه (باب جمع القران ،ج:٩،ص: ٢٥،مط:قديمي كتب خانه)
وفي الدر المختار: المصحف إذا صار بحال لا يقرأ فيه يدفن كالمسلم،
وفی رد المحتار تحت «(قوله: يدفن) أي يجعل في خرقة طاهرة ويدفن في محل غير ممتهن لا يوطأ. وفي الذخيرة وينبغي أن يلحد له ولا يشق له؛ لأنه يحتاج إلى إهالة التراب عليه، وفي ذلك نوع تحقير إلا إذا جعل فوقه سقف بحيث لا يصل التراب إليه فهو حسن أيضا اهـ. وأما غيره من الكتب فسيأتي في الحظر والإباحة أنه يمحى عنها اسم الله تعالى وملائكته ورسله ويحرق الباقي ولا بأس بأن تلقى في ماء جار كما هي أو تدفن وهو أحسن. اهـ.(كتاب الطهارة، فروع، ج: ١، ص: ١٧٧، مط: سعيد)
وفي الدر المختار: الكتب التي لا ينتفع بها يمحى عنها اسم الله وملائكته ورسله ويحرق الباقي ولا بأس بأن تلقى في ماء جار كما هي أو تدفن وهو أحسن كما في الأنبياء.
وفي رد المحتار تحت: (قوله الكتب إلخ) هذه المسائل من هنا إلى النظم كلها مأخوذة من المجتبى كما يأتي العزو إليه (قوله كما في الأنبياء) كذا في غالب النسخ وفي بعضها كما في الأشباه لكن عبارة المجتبى والدفن أحسن كما في الأنبياء والأولياء إذا ماتوا، وكذا جميع الكتب إذا بليت وخرجت عن الانتفاع بها اهـ. يعني أن الدفن ليس فيه إخلال بالتعظيم، لأن أفضل الناس يدفنون. وفي الذخيرة: المصحف إذا صار خلقا وتعذر القراءة منه لا يحرق بالنار إليه أشار محمد وبه نأخذ، ولا يكره دفنه، وينبغي أن يلف بخرقة طاهرة، ويلحد له لأنه لو شق ودفن يحتاج إلى إهالة التراب عليه، وفي ذلك نوع تحقير إلا إذا جعل فوقه سقف وإن شاء غسله بالماء أو وضعه في موضع طاهر لا تصل إليه يد محدث ولا غبار، ولا قذر تعظيما لكلام الله عز وجل اهـ.(كتاب الحضر و الاباحة، ج: ٦، ص: ٤٢٢، مط: سعيد)
وفي التاترخانية: وفي مسائل الملتقط: ورسائل تستغنى عنها وفيها اسم الله تعالى يمحى، ثم يلقى في الماء الكثير، واتخھ منه قراطيس كان أفضل(الفصل الخامس في المسجد و القبلة و المصحف، ج: ١٨، ص: ٦٩، مط: رشيدية)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
اظہر امین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 85614کی تصدیق کریں
0     29
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات