گناہ و ناجائز

بے ایمان اور لٹیرے کے ساتھ دھوکے بازی کرنا

فتوی نمبر :
85813
| تاریخ :
2025-09-01
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

بے ایمان اور لٹیرے کے ساتھ دھوکے بازی کرنا

میں ایک کاروباری بندہ ہوں ،میرے پاس کبھی کبھار ایک ایسا بندہ آتا ہے، جسے حلال و حرام میں کوئی فرق نہیں پڑتا ہے،یوں سمجھ لیں کہ سیاست دان ہے،جس نے عوام کے پیسے لوٹے ہیں، تو کیا میں اس شخص کے ساتھ بے ایمانی کر سکتا ہوں ؟کیونکہ ہے تو اس کے پاس عوام کے پیسے ،جسے اس نے بے ایمانی سے لوٹا ہیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ جھوٹ بولنے اور غلط بیانی وغیرہ سے کام لینے سے شریعتِ مطہرہ نے سختی سے منع کیا ہے، کاروبار اور لین دین کے سلسلے میں سچ گوئی، معاملے کی صفائی اور حسن خلق کا درس دیا ہے، اور جھوٹ بولنے اور دھوکہ دینےپر قرآن و حدیث میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں،لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے لئے جائز نہیں کہ کسی کے ساتھ بھی معاملہ اور خریدوفروخت میں دھوکہ دہی سے کام لے،اگر چہ وہ دھوکہ باز اور دوسروں کا حق کھانے والا کیوں نہ ہو۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی سنن الترمذی : عن ابن عمر قال : سمعت رسول الله صلى الله عيله وسلم يقول إن الغادر ينصب له لواء يوم القيامة (باب ان لکل غادر لواء يوم القيامة، ج 2،ص 144،رقم 1581،ط : دار الغرب الإسلامي)۔
و فی الموطا امام مالکؒ : عن صفوان بن سليم انه قال قیل لرسول الله صلى الله عليه و سلم أيكون المؤمن جبانا فقال نعم فقيل له أيكون المؤمن بخيلا فقال نعم فقيل له أيكون المؤمن كذابا فقال لا ( باب ما جاء فی الصدق و الکذب، ص 169،رقم:2088، ط: موسسۃ الرسالۃ)۔
و فی الصحیح للبخاری: عن عبد اللہ عن النبی ﷺ قال إن الصدق یھدی إلی البر و إن البر یھدی إلی الجنۃ و إن الرجل لیصدق حتی یکون صدیقا و إن الکذب یھدی إلی الفجور، و إن الفجور یھدی إلی النار و إن الرجل لیکذب حتی یکتب عند اللہ کذابا (باب قول اللہ تعالی(( اتقوا اللہ و کونو مع الصٰدقین )) و ما ینھی عن الکذب، ج 4، ص 2712، ط: بشری)۔

و فی بدائع الصنائع: و علی ھذا یخرج الاستئجار علی المعاصی انہ لا یصح لأنہ إستئجار علی منفعۃ غیر مقدورۃ الاستیفاء شرعا کاستئجار الانسان للعب و اللھو، و کاستئجار المغنیۃ، و النائحۃ للغناء ،و النوح (الی قولہ ) و کذا لو استاجر رجلا لیقتل لہ رجلا او لیسجنہ او لیضربہ ظلما و کذا کل إجازۃ وقعت لمظلمۃ لانہ استئجار لفعل المعصیۃ فلا یکون المعقود علیہ مقدور الاستیفاء شرعا فان کان ذالک بحق بان استاجر انسانا لقطع عضو جاز لانہ مقدور الاستیفاء لان محلہ معلوم الخ ( کتاب الاجارۃ، ج 4، ص 189،ط: ایچ ایم سعید )۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
مراد علی نمیر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 85813کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات