مباحات

وقف مدرسہ پر ورثاء کے قبضہ کرنے کا خوف ہو تو کیا کیا جائے؟

فتوی نمبر :
85963
| تاریخ :
2025-09-08
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

وقف مدرسہ پر ورثاء کے قبضہ کرنے کا خوف ہو تو کیا کیا جائے؟

مفتی صاحب محترم ! السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ، میں ایک بنات مدرسے کے شوریٰ کا رکن ہوں، ہم نے مدرسے کے لئے اہل خیر کے تعاون سے ایک پلاٹ خرید لیا پھر اس پر حسب ضرورت تعمیرات کیں، جس کی موجودہ قیمت تقریباً ایک کروڑ روپے سے زائد ہے ،اب مسئلہ یہ درپیش ہے کہ پلاٹ مہتمم صاحب کے نام خریدا گیا ہے اور مدرسے کا مکمل کنٹرول اور انتظام ان ہی کے پاس ہے، مہتمم صاحب کو اب یہ تشویش ہے کہ خدا نا خواستہ ان کو کچھ ہو گیا تو ان کے رشتے دار وغیرہ کوئی دعویٰ نہ کر بیٹھیں ، باقی جو مدرسے کے اساتذہ کرام ہیں ان کو صرف مشاہرہ پر رکھا گیا ہے اور ان کا اور جو ارکان شوریٰ ہیں ان کا مدرسے کے انتظام سے کوئی سروکار اور دلچسپی نہیں، اور نہ ہی مہتمم صاحب سے اس معاملے میں کوئی پوچھ گچھ یا حساب کتاب کا مطالبہ کرتے ہیں، اب سب کچھ مہتمم صاحب کے دسترس میں ہے اور ان کو بہت زیادہ تشویش ہے کہ آخر کار کوئی قضیہ پیش نہ آئے، براه مہربانی رہنمائی فرمائیں کہ مذکورہ مدرسے کے حوالے سے شرعی لحاظ سے وقف کے کیا احکام ہیں ؟ نیز مروجہ ملکی قوانین کی روشنی میں بھی اگر کوئی رہنمائی فرما سکتے ہیں ، تو نوازش ہوگی ۔جزاکم اللہ خیراً۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں مہتمم صاحب کو چاہیے کہ مذکور مدرسہ کو وقف کر کے اس کی قانونی رجسٹریشن بھی کروا لىں، ایسا کرنے سے مدرسہ مہتمم صاحب کی ملکیت سے نکل جائے گا اور اس میں میراث بھی جاری نہ ہوگی، جبکہ اس حوالہ سے قانونی معلومات کے لیے متعلقہ ادارے سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدر المختار: (وعندهما هو حبسها على) حكم (ملك الله تعالى وصرف منفعتها على من أحب) ولو غنيا فيلزم، فلا يجوز له إبطاله ولا يورث عنه وعليه الفتوى ابن الكمال وابن الشحنة اهـ
وفي رد المحتار تحت قوله: (وعليه الفتوى) أي على قولهما يلزمه. قال في الفتح: والحق ترجح قول عامة العلماء بلزومه؛ لأن الأحاديث والآثار متظافرة على ذلك، واستمر عمل الصحابة والتابعين ومن بعدهم على ذلك فلذا ترجح خلاف قوله اهـ ملخصا اهـ [كتاب الوقف، ج:4 ص:339 ط: سعيد)]
وفي الدر المختار أيضاً: قولهم: شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة ووجوب العمل به فيجب عليه خدمة وظيفته أو تركها لمن يعمل، وإلا أثم لا سيما فيما يلزم بتركها تعطيل الكل من النهر اهـ
وفي رد المحتار تحت قوله: (قولهم شرط الواقف كنص الشارع) في الخيرية قد صرحوا بأن الاعتبار في الشروط لما هو الواقع لا لما كتب في مكتوب الوقف، فلو أقيمت بينة لما لم يوجد في كتاب الوقف عمل بها بلا ريب لأن المكتوب خط مجرد ولا عبرة به لخروجه عن الحجج الشرعية. اهـ. ط. مطلب بيان مفهوم المخالفة اهـ [كتاب الوقف، مطلب في قولهم شرط الواقف كنص الشارع، ج:4 ص:433 ط: سعيد)]

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد یعقوب علی معظم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 85963کی تصدیق کریں
1     8
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات