مباحات

کمپنئ کی طرف سے جاری کردہ پیٹرول ڈلوانے کے بجائےمقرّرہ مقدار کی کم قیمت وصول کرنا

فتوی نمبر :
86046
| تاریخ :
2025-09-13
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

کمپنئ کی طرف سے جاری کردہ پیٹرول ڈلوانے کے بجائےمقرّرہ مقدار کی کم قیمت وصول کرنا

السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔
محترم مفتی صاحب ،امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ میں ایک کمپنی میں ملازم ہوں جہاں میری کل تنخواہ 330,000 روپے ماہانہ ہے۔ کمپنی مجھے فیول کارڈ کے ذریعے 170 لیٹر پٹرول فراہم کرتی ہے۔ اس 170 لیٹر پٹرول کی قیمت کاٹ کر باقی رقم، حکومتی ٹیکس کی کٹوتی کے بعد، میرے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کر دی جاتی ہے۔
اگر میں کسی مہینے 50 لیٹر یا اس سے زیادہ یا کم، جو بھی مقدار ہو، پٹرول استعمال نہ کروں تو اس کی قیمت اگلے ماہ کی تنخواہ میں شامل ہو جاتی ہے۔ مثال کے طور پر، اگر میرے کارڈ میں بچ جانے والی پٹرول کی مقدار 50 لیٹر ہے اور اس کی کل رقم 13,287 روپے بنتی ہے، تو یہ رقم اگلے ماہ کی تنخواہ میں شامل ہو جاتی ہے۔ اس سے میری تنخواہ کا سلیب بڑھ جاتا ہے، جس کیوجہ سے ماہانہ ٹیکس میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً، سالانہ ٹیکس میں اضافی بوجھ پڑتا ہے۔
میرا سوال یہ ہے کہ اگر میں پٹرول پمپ سے پٹرول ڈلوانے کے بجائے اس کی نقد رقم لے لوں تو کیا یہ جائز ہے؟ مثلاً، اگر پٹرول پمپ والا 50 لیٹر پٹرول کی قیمت 13,287 روپے کے بجائے 13,000 روپے میں مجھ سے خرید لیتا ہے، تو کیا یہ فروخت جائز ہے؟ کیا یہ سود یا رشوت کے زمرے میں آتا ہے؟ براہ کرم شرعی رہنمائی فرمائیں۔ جزاک اللہ خیراً ۔والسلام

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق سائل کو کمپنی کی طرف سے پیٹرول استعمال کرنے کی سہولت اگر فقط اس کی ضرورت کے بقدر نہ دی گئی ہو بلکہ اسے ماہانہ 170 لیٹر پیٹرول استعمال کرنے کی اجازت ہو، اور ماہانہ پورے 170 لیٹر پیٹرول استعمال نہ کرنے کی صورت میں بقیہ پیٹرول کی قیمت اس کی تنخواہ میں شامل کی جاتی ہو تو ایسی صورت میں سائل کےلئے 170 لیٹر پیٹرول اپنے ذاتی استعمال میں لانا یا پیٹرول پمپ سے کسی کین وغیرہ میں لے کر کسی دوسرے شخص کو فروخت کرنااور باہمی رضامندی سے پیٹرول کی کوئی بھی قیمت طے کرنا شرعاً جائز اور درست ہے۔البتہ سوال میں ذکر کردہ صورت کے مطابق فیول کارڈ کے ذریعہ پیٹرول پمپ سے پٹرول ڈلوانے کے بجائے نقد رقم لینا جائز نہیں۔ کیونکہ فیول کارڈ بذاتِ خود کوئی مال نہیں جس کی خرید و فروخت شرعاً درست ہو بلکہ یہ ایک رسید ہے جو حاملِ کارڈ کےلئے مخصوص مقدار میں پٹرول پر حقِ ملکیت ظاہر کرتی ہے، جبکہ وہ پیٹرول فی الحال اس کے قبضہ میں نہیں ہے،اور فقہی ضابطہ یہ ہے کہ کسی چیز کو فروخت کرنے سے پہلے شرعاً اس پر قبضہ کرنا ضروری ہے ،قبضہ کرنے کے بعد آگے فروخت کرنا جائز ہوتاہے،لہٰذا جب سائل نے پیٹرول پر قبضہ نہیں کیا تو قبضے سے پہلے فیول کارڈ کے ذریعہ فیول کی بیع شرعاً جائز نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

«المحيط البرهاني» (6/ 275):
من حكم المبيع إذا كان منفعة أن لا يجوز بيعه قبل القبض، ورد الأثر عن رسول الله عليه الصلاة والسلام، ولأنه تمكن في هذا العقد غرر يمكن التحرز عنه، ونهى رسول الله عليه الصلاة والسلام «عن بيع فيه غرر» .
«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (5/ 180):
(ومنها) القبض في بيع المشتري المنقول فلا يصح بيعه قبل القبض؛ لما روي أن النبي صلى الله عليه وسلم «نهى عن بيع ما لم يقبض» ، والنهي يوجب فساد المنهي؛ ولأنه بيع فيه غرر الانفساخ بهلاك المعقود عليه؛ لأنه إذا هلك ‌المعقود ‌عليه ‌قبل ‌القبض يبطل البيع الأول فينفسخ الثاني؛ لأنه بناه على الأول، وقد «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع فيه غرر»
«درر الحكام في شرح مجلة الأحكام» (3/ 201):
«كل ‌يتصرف ‌في ‌ملكه كيفما شاء. لكن إذا تعلق حق الغير به فيمنع المالك من تصرفه على وجه الاستقلال.»

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عرفان اللہ حبیب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 86046کی تصدیق کریں
0     21
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات