مباحات

شوہرکا مرحومہ بیوی کی تنخواہ بعد از انتقال ،خلافِ ضابطہ وصول کرنا

فتوی نمبر :
86121
| تاریخ :
2025-09-16
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

شوہرکا مرحومہ بیوی کی تنخواہ بعد از انتقال ،خلافِ ضابطہ وصول کرنا

میری بہن کی دوران گورنمنٹ ملازمت فوتگی ہو گئی۔ فوت ہونے کے بعد گورنمنٹ کے قوانین کے تحت تنخواہ شوہر کے نام جاری ہوئی۔ شوہر نے مئی 2022 میں دوسری شادی کر لی، جب کہ نکاح نامے پہ کچھ قانونی پیچیدگیوں کے سبب ایک سال بعد یعنی مئی 2023 کی تاریخ لکھوائی۔ گورنمنٹ کے سروس قوانین میں فوتگی کے بعد تنخواہ شوہر کے نام اور شوہر کی دوسری شادی کرنے کی صورت میں اولاد کے نام اور اولاد نہ ہونے کی صورت میں تنخواہ والدین کے نام کی جاتی ہے۔ گورنمنٹ نے سروس قوانین کے تحت شوہر کی دوسری شادی کی کاغذی تاریخ (مئی 2023) سے تنخواہ والدین کے نام جاری کی چونکہ اولاد نہ تھی، گورنمنٹ کو شادی کی اصل تاریخ (مئی 2022) کا نہیں پتہ کیونکہ گورنمنٹ کاغذوں پہ چلتی ہے، اب اصل شادی کی تاریخ مئی 2022 ہے جبکہ کاغذوں میں مئی 2023 ہے، یہ ایک سال کی تنخواہوں پہ شوہر کا حق بنتا ہے یا والدین کا؟ براہِ مہربانی رہنمائی فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں دوسری شادی کرنے کی وجہ سے شوہر کا مذکور رقم پر استحقاق باقی نہیں رہا تھا، بلکہ سرکاری قوانین کے مطابق وہ مرحومہ کے والدین کا حق تھا،لیکن اس کے باوجود شوہر نے وہ رقم وصول کی ہے،لہٰذا اس پر دوسری شادی کے بعد سے وصول شدہ رقم مرحومہ کے والدین کو لوٹانا شرعاً لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الصحیح المسلم: عن أم سلمة. قالت:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم (‌إنكم ‌تختصمون ‌إلي. ‌ولعل ‌بعضكم أن يكون ألحن بحجته من بعض. فأقضي له على نحو مما أسمع منه. فمن قطعت له من حق أخيه شيئا، فلا يأخذه. فإنما أقطع له به قطعة من النار)(باب بیان ان حکم الحاکم لایغیر باطنہ،ج:2،ص:931،رقم:1713، م:البشرٰی۔)
وفی الشامی: (قوله: في العقود) أطلقها فشمل عقود التبرعات، ‌قالوا: ‌وفي ‌الهبة ‌والصدقة روايتان، وكذا في البيع بأقل من قيمته في رواية لا ينفذ باطنا؛ لأن القاضي لا يملك إنشاء التبرعات في ملك الغير، والبيع بأقل تبرع من وجه بحر(مطلب فی القضاء بشھادۃ الزور،ج:5،ص:405،م:کراچی۔)
وفیہ ایضا: والحاصل أنه ‌إن ‌علم ‌أرباب ‌الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه،(مطلب فیمن ورث مالا حراما،ج:5،ص:99،م:کراچی۔)
وفی الفقہ الحنفی وادلتۃ:والقضاء بشھادۃ الزور،ینفذ فی الھبۃ والارث،حتی یحل للمشھود لہ اکل الھبہ والمیراث،وروی عن الامام انہ لاینفذ القضاء فی الھبۃ والارث، فھماقولان لہ ودلیل بنفوذ القضاء ظاھراًوباطناً،ودلیلھما بعدم نفاذ القضاء باطناً، قولہ علیہ الصلاۃ السلام:انکم تختصون الی الخ۔(کتاب ادب القاضی،ج:3،ص:24، 25،م:وحیدی۔)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عمر فاروق غفور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 86121کی تصدیق کریں
0     211
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات