السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !مفتی صاحب! میں ایک نجی ادارے میں بطور ملازمہ کام کر رہی ہوں۔ میری اصل تاریخِ پیدائش کے مطابق میری عمر اس ماہ ساٹھ (60) سال ہوچکی ہے، مگر میرے قومی شناختی کارڈ میں غلطی سے میری عمر دو سال کم درج ہے۔ ادارہ ریٹائرمنٹ کی تاریخ صرف شناختی کارڈ کے مطابق لیتا ہے، اسی وجہ سے ادارہ مجھے دو سال بعد ہی ریٹائر کرے گا۔مزید وضاحت کے لیے عرض ہے کہ میں اس غلطی کا ادارے کو بتا کر اپنا اعصاب اور ساکھ پر سوال نہیں اٹھانا چاہتی، کیونکہ میں نے وہاں ایمانداری اور محنت سے کام کیا ہے اور اس بات کے بتانے سے میرے اوپر بے ایمانی کا تاثر پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے میں ادارے کو یہ بات ظاہر نہیں کرنا چاہتی۔میرا سوال یہ ہے کہ کیا شرعی طور پر میرے لیے جائز ہے کہ میں وہ دو سال مزید اسی ادارے میں کام کرتی رہوں، جبکہ میری اصل عمر ساٹھ سال ہوچکی ہے ،مگر ادارہ شناختی کارڈ کی بنیاد پر بعد میں ریٹائر کرے گا؟یا شرعاً بہتر یہی ہے کہ میں اپنی اصل عمر کی بنا پر ابھی استعفیٰ دے دوں؟براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں واضح اور آسان رہنمائی فرمائیں۔جزاکم اللہ خیراً
سائلہ کے شناختی کارڈ میں اگرغلطی سے عمر دو سال کم درج ہوگئی ہوتو اگرچہ بہتر یہی ہے کہ وہ احسن انداز میں عزت نفس کا خیال رکھتے ہوئے ملازمت سے مقررہ عمر کی حدتک پہنچنے کے بعد علیحدگی اختیار کرلے،تاہم مقررہ عمر کی حد پہنچنے پر بھی سائلہ مزید دوسال اپنا کام جاری رکھ سکتی ہو اور اس میں بھی اس کے کام پر کوئی منفی اثر نہ پڑتا ہو تو شرعاً مزید دوسال کام جاری رکھنے کی گنجائش ہے۔
کما فی الدر المختار: لأن طاعۃ الإمام فیما لیس بمعصیۃ فرض فکیف فیما ھو طاعۃ الخ (باب البغاۃ، ج: 4، ص: 264، ط: ایچ ایم سعید)۔
وفی تکملہ فتح الملھم: وأن المسلم یجب علیہ أن یطیع الأمیرہ فی الأمور المباحۃ، فإن أمر الأمیر بفعل مباح وجبت مباشرتہ ، وإن نھی عن أمر مباح حرم ارتکابہ (إلی قولہ) ومن ھنا صرح الفقھاء بأن طاعۃ الإمام فیما لیس بمعصیۃ واجبۃ (إلی قولہ) فإنھا مشروطۃ أیضا بکون الأمر صادرا عن مصلحۃ لا عن ھوی أو ظلم لأن الحاکم لا یطاع لذاتہ وإنما یطاع من حیث أنہ متول لمصالح العامۃ الخ (باب وجوب طاعۃ الأمراء ، ج: 3، ص: 23، 24، ط: دارالعلوم کراچی)۔
وفی الشامیۃ: قال فی المعراج لأن طاعۃ الإمام فیما لیس بمعصیۃ واجبۃ الخ اھ (باب العیدین،مطلب تجب طاعۃ الإمام فیما لیس بمعصیۃ ، ج: 2، ص: 172، ط: ایچ ایم سعید)۔