مباحات

وکیل کا وراثت کی رقم سے حصہ مانگنا

فتوی نمبر :
86590
| تاریخ :
2025-09-24
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

وکیل کا وراثت کی رقم سے حصہ مانگنا

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ محترم مفتی صاحب! ایک شرعی مسئلے کے متعلق آپ سے فتویٰ درکار ہے، معاملہ یوں ہے کہ جب میرے والد صاحب حیات تھے، تو انہوں نے وراثت کے سلسلے میں عدالت میں مقدمہ لڑنے کے لیے ایک وکیل مقرر کیا تھا، اُس وقت یہ طے ہوا تھا کہ اگر مقدمہ عدالت میں فیصلہ ہوا تو وکیل کو اس کام کے عوض حاصل ہونے والی وراثت کے حصے میں سے٪ 10دیا جائے گا ،اور اگر ورثاءکے درمیاں باہمی رضامندی سے شریعت کے مطابق وراثت تقسیم ہوئی تو اس کام کے عوض ٪5 دوں گا، حالانکہ اس طرح اجرت لینا غیر قانونی ہے ،اب والد صاحب کا انتقال ہو چکا ہے اور عدالت میں مقدمہ بھی نہیں چلا، بلکہ باقی ورثاء کے ساتھ شرعی اصولوں کے مطابق تقسیمِ وراثت کر لی گئی ہے، اس صورت میں اب وکیل ٪ 5کے بجائے ٪10 کا مطالبہ کر رہا ہے ،اور کہتا ہے کہ اگر ٪ 10دو تو ٹھیک ہے، ورنہ کچھ بھی نہ دو،میرا سوال یہ ہے کہ شریعت کی رو سے ہمیں وکیل کو کتنا فیصد دینا ضروری ہے؟ کیا صرف ٪5 دینا لازم ہوگا؟ اور اگر وہ٪ 5قبول نہ کرے، تو کیا اس کے بدلے کسی صدقہ جاریہ کے کاموں میں صرف کر دینا، اور اس طرح میت کا ذمہ بری ہوجائے گا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ سائل کے والد مرحوم نے وراثت کے سلسلے میں مذکور وکیل کے ساتھ جو معاملہ کیا تھا ، وہ اجارہ کا معاملہ تھا ،اور عقدِ اجارہ میں عقد کے وقت اجرت کو متعین کرنا صروری ہوتا ہے ، اگر عقد کے وقت اجرت متعین نہ کی گئی ہو یا اجرت میں کمی و زیادتی کسی مخصوص شرط یا عمل کے ساتھ معلق کی گئی ہو ،تو اجرت میں غرر پیدا ہونے کی وجہ سے شرعاًایسا اجارہ فاسد ہو جاتا ہے ،اور اجارہ کے فاسد ہونے کی صورت میں اجرتِ مثل ( یعنی اس کام کی جتنی اجرت مارکیٹ میں کوئی دوسرا شخص لیتا ہو )لازم ہوتی ہے ،لہذا صورت مسئولہ میں جب سائل کے والد مرحوم نے مذکور وکیل کے ساتھ وراثت کے متعلق جو معاملہ کیا تھا وہ معاملہ اجارہ کا تھا ، اور سائل کے والد پر لازم تھا کہ وہ ابتدا میں ہی وکیل کے ساتھ اجرت متعین کر لیتا کہ آپ کو اس کام کے عوض اتنی اجرت دوں گا ، تو ایسی صورت میں یہ معاملہ درست ہو جاتا ،لیکن ابتداء میں ہی ایک اجرت فکس نہ کرنے کی وجہ سے یہ معاملہ فاسد ہو گیا تھا ، لہذا اب اس وکیل کو اس کام کے عوض اجرتِ مثل دینا لازم ہو گا ،اور چونکہ یہ رقم وکیل کی سائل کے والد مرحوم کے ذمہ قرض شمار ہو گی اس لیے یہ رقم وکیل کو دینے کے بجائےصدقہ جاریہ کے کاموں میں خرچ کرنے سے میت بری الذمہ نہیں ہوگا، بلکہ یہ اس وکیل کا حق اسی کو دینا لازم اور ضروری ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: (الفاسد ) من العقود (ما كان مشروعًا بأصله دون وصفه والباطل ما ليس مشروعًا أصلًا) لا بأصله ولا بوصفه (وحكم الأول) وهو الفاسد (وجوب أجر المثل بالاستعمال) لو المسمى معلومًا، ابن كمال (بخلاف الثاني) وهو الباطل فإنه لا أجر فيه الاستعمال (إلی قولہ) (تفسد الإجارة بالشروط المخالفة لمقتضى العقد فكل ما أفسد البيع) مما مر (يفسدها) كجهالة مأجور أو أجرة أو مدة أو عمل، وكشرط طعام عبد وعلف دابة ومرمة الدار أو مغارمها وعشر أو خراج أو مؤنة رد أشباه الخ۔
و فی الشامیۃ تحت: (قولہ وجوب أجر المثل ) أی أجر شخص مماثل لہ فی ذلک العمل الخ(باب الإجارۃ الفاسدۃ، ج 6، ص 45،46، ط: سعید)۔
و فی الدر أیضا: و شرطھا کون الاجارۃ و المنفعۃ معلومتین لأن جھالتھما تفضی الی المنازعۃ الخ ( کتاب الاجارۃ ج: 6، ص: 5، ط: سعید )۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محسن نثار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 86590کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات