مباحات

لوگوں کے ڈیٹا کو محفوظ کرنے کیلئے ٹکنالوجی استعمال کرنا

فتوی نمبر :
86805
| تاریخ :
2025-09-27
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

لوگوں کے ڈیٹا کو محفوظ کرنے کیلئے ٹکنالوجی استعمال کرنا

end to end encryption اور zero access encryptionآجکل سافٹ وئیر استعمال کر رہے ہیں جیسےTelegram,Whatsapp,Proton Drive,Signal, اس سے یوزر کے ڈیٹا کو اتنا محفوظ بنایا جا رہا ہے کہ کمپنی خود،حکومتی اور انٹیلیجنس ادارے چاہ کر بھی یوزر کی چیٹ،فائلز اور تصاویر کو نہیں دیکھ سکتے اور بعض اوقات تو location بھی نہیں دیکھ سکتے۔ VPN کا بھی کچھ ایسا حساب ہے یوزر کی location and ip address کو چھپاتا ہے اور فیک شو کرتا ہے تاکہ یوزر کی پرائیویسی محفوظ رہے، کیا ان دونوں ٹیکنالوجی کا استعمال درست ہوگا۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں ذکر کردہ زیرو ایکسز انکرپشن اور اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن اوراس جیسے دیگرسوفٹ وئیراورسیکورٹی ٹولز کاحکم ان کےاستعمال پرموقوف ہے، اگران کا استعمال جائز مقاصدکے لیے ہو جیسے ہیکرز یا دوسرے غیرمجاز افراد سے ذاتی معلومات کی حفاظت پیش نظرہوتواس کااستعمال جائز ہوگا ، اور اگر ان کااستعمال غیر اخلاقی مواد تک رسائی ، فراڈ دھوکہ دہی یا کسی غیر قانونی سرگرمی کو چھپانے کے لیے ہوتو ان کا استعمال ناجائز و حرام ہوگا، جس سے اجتناب لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی البنایۃ شرح الھدایۃ: ما ‌يفضي ‌إلى ‌الحرام فحرام إلخ۔ (باب فی الإمامۃ،حضور النساء للجماعات، ج 2، ص 354، ط:دار الکتب العلمیۃ)۔
و فی غمز عیون البصائر: الأصل في الأشياء الإباحة حتى يدل الدليل على عدم الإباحة ، ذكر العلامة قاسم بن قطلوبغا في بعض تعاليقه أن المختار أن الأصل الإباحة عند جمھور أصحابنا، وقيده فخر الإسلام بزمن الفترة فقال: إن الناس لن يتركوا سدى في شيء من الأزمان، وإنما هذا بناءعلى زمن الفترة لاختلاف الشرائع ووقوع التحريفات، فلم يبق الاعتقاد، والوثوق على شيء من الشرائع فظھرت الإباحة بمعنى عدم العقاب، بما لم يوجد له محرم ولا مبيح إلخ۔(قاعدة الأصل في الأشياء الإباحة، ج 1، ص 223، ط:دار الکتب العلمیۃ)۔
وفی الموافقات: ‌وقد ‌تقرر ‌أن ‌الوسائل ‌من ‌حيث ‌هي ‌وسائل ‌غير ‌مقصودة ‌لأنفسھا،وإنما ‌هي ‌تبع ‌للمقاصد ‌بحيث ‌لو ‌سقطت ‌المقاصد سقطت الوسائل، وبحيث لو توصل إلى المقاصد دونھا لم يتوسل بھا، وبحيث لو فرضنا عدم المقاصد جملة لم يكن للوسائل اعتبار، بل كانت تكون كالعبث إلخ۔ (کتاب المقاصد، ‌‌النوع الرابع: في بيان قصد الشارع في دخول المكلف تحت أحكام الشريعة، ج 2، ص 353، ط:دار ابن عفان)۔
وفي الفقه الإسلامي وأدلته:ما ‌يتوصل ‌به ‌إلى ‌الحرام فھو حرام، ولو بالقصد، ولقوله تعالى: (ولا تعاونوا على الإثم والعدوان) (المائدة:2/ 5)، وهذا نھي يقتضي التحريم إلخ۔ (المبحث، البیع الفاسد و الباطل،أنواع البیع الفاسد،ج 5، ص 3458، ط:دار الفکر)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالروف نواز عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 86805کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات