مباحات

بچہ کو سزا کے طور پر کوئی عبادت کروانا

فتوی نمبر :
86930
| تاریخ :
2025-09-29
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

بچہ کو سزا کے طور پر کوئی عبادت کروانا

ہمارے ملک، بنگلہ دیش کے کچھ اسکولوں میں، اسکول کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر طلباء کو مذہبی رسومات کے ساتھ سزا دی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی طالب علم کلاس چھوٹ جاتا ہے یا سبق یاد کرنے میں ناکام رہتا ہے، تو استاد اس سے بیس رکعات اختیاری نماز پڑھنے یا ہزار تسبیح پڑھنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ کیا طلباء کو نماز، تلاوت یا تسبیح سے سزا دینا جائز ہے؟ میں چاہتا ہوں کہ آپ اس مسئلے کے حل کے لیے ہماری رہنمائی کریں۔ خدا آپ کو خوش رکھے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ بچوں کو سزا دینے سے مقصود ان کی تادیب و تربیت ہوا کرتی ہے، اور اگر کسی طالب علم سے نماز چھوٹ جائے، تو اس غرض سے اسے کچھ نوافل وغیرہ پڑھوانا کہ وہ نماز کا عادی ہو جائے، یا دیگر کوتاہیوں پر انہیں تسبیح وغیرہ کا پابند بنانا درست ہے، لیکن اس میں طلباء کے تحمل و برداشت کو بھی ملحوظ رکھنا چاہیے تاکہ سزا سے جو مقصود اصلاح و تربیت ہے، وہ فوت نہ ہو اور سزا کی زیادتی کی وجہ سے بچے ان عبادات سے ہی متنفر نہ ہو جائیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی سنن ابی داود: أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: «مُرُوا أَوْلادَكُم بِالصَّلاةِ وَهُم أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِينَ»۔ (حدیث: 495)۔
وفی صحيح البخاري: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ قَائِلًا عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ: «وَمَا يَزَالُ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ»۔ (كتاب الرقاق، باب التواضع، حديث: 6502)۔
وفی الموسوعة الفقهية الكويتيہ: طرق تأديب الصبي: يؤدب الصبي بالأمر بأداء الفرائض والنهي عن المنكرات بالقول، ثم الوعيد، ثم التعنيف، ثم الضرب، إن لم تجد الطرق المذكورة قبله، ولا يضرب الصبي لترك الصلاة إلا إذا بلغ عشر سنين. لحديث: مروا أولادكم بالصلاة وهم أبناء سبع سنين، واضربوهم عليها وهم أبناء عشر سنين الخ۔ (حرف التاء، تأديب، ج:10،ص:24، ط: دارالسلاسل - الكويت)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالھادی شعیب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 86930کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات