گناہ و ناجائز

اسکول میں مجبورا میوزک کی کلاس لینے کا حکم

فتوی نمبر :
87124
| تاریخ :
2025-10-03
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

اسکول میں مجبورا میوزک کی کلاس لینے کا حکم

میرے ایک طالبعلم ہیں جو امریکہ میں رہتے ہیں اور ایک امریکی اسکول میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اُن کے نصاب میں ایک مضمون "موسیقی" ہے، جو کہ لازمی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر موسیقی کو شرعی طور پر ناجائز سمجھا جائے، تو ایسے میں کیا راہنمائی اختیار کی جائے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ گانا بجانا ،موسیقی اور میوزک سیکھنا اور سننا شرعاً جائز نہیں ، بلکہ گناہِ کبیرہ ہے جس سے اجتناب لازم ہے ۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکور طالب علم کو چاہیے کہ مذکور عمل سے بچنے کی کوشش کرے، اور کسی ایسے ادارے میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے داخلہ حاصل کرے جہاں موسیقی بطورِ لازمی سبجیکٹ داخلِ نصاب نہ ہو، بلکہ اختیاری سبجیکٹ ہو تاکہ اسے اس میں شرکت نہ کرنی پڑے ، کیونکہ محض دنیوی مفاد کے حصول کے لیے کسی ناجائز اور حرام کام کےاختیار کرنےکی کوئی گنجائش نہیں ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی سنن أبی داؤد : عن شيخ «شهد أبا وائل في وليمة، فجعلوا يلعبون يتلعبون يغنون، فحل أبو وائل حبوته وقال: سمعت عبد الله يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إن ‌الغناء ‌ينبت النفاق في القلب. ( باب کراھیۃ الغناء والزمر، ج: 4، ص: 435، ناشر: المطبعۃ الأنصاریۃ دھلی )-
و فی مشکاۃ المصابیح : 3696 -[36] (صحيح) وعن النواس بن سمعان قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌لا ‌طاعة ‌لمخلوق في معصية الخالق» . رواه في شرح السنة اھ ( کتاب الأمارۃ و القضاء، ج: 2، ص: 1092، ناشر: المکتب الاسلامی )-
وفی الدر المختار: لا ينبغي أن يقعد بل يخرج معرضا لقوله تعالى: - {فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظالمين} [الأنعام: 68]- (فإن قدر على المنع فعل وإلا) يقدر (صبر إن لم يكن ممن يقتدى به فإن كان) مقتدى (ولم يقدر على المنع خرج ولم يقعد) لأن فيه شين الدين والمحكي عن الإمام كان قبل أن يصير مقتدى به (وإن علم أولا) باللعب (لا يحضر أصلا) سواء كان ممن يقتدى به أو لا لأن حق الدعوة إنما يلزمه بعد الحضور لا قبله ابن كمال. وفي السراج ودلت المسألة أن الملاهي كلها حرام اھ
و فی رد المحتار تحت: (قوله لا ينبغي أن يقعد) أي يجب عليه قال في الاختيار لأن ‌استماع ‌اللهو حرام والإجابة سنة والامتناع عن الحرام أولى ( إلی قولہ ) (قوله فعل) أي فعل المنع وجوبا إزالة للمنكر (قوله صبر) أي مع الإنكار بقلبه قال عليه الصلاة والسلام «من رأى منكم منكرا فليغيره بيده فإن لم يستطع فبلسانه فإن لم يستطع فبقلبه وذلك أضعف الإيمان» اهـ أي أضعف أحواله في ذاته: أي إنما يكون ذلك إذا اشتد ضعف الإيمان، ( إلی قولہ ) (قوله ودلت المسألة إلخ) لأن محمدا أطلق اسم اللعب والغناء فاللعب وهو اللهو حرام بالنص قال عليه الصلاة والسلام «لهو المؤمن باطل إلا في ثلاث: تأديبه فرسه» وفي رواية «ملاعبته بفرسه ورميه عن قوسه وملاعبته مع أهله» اھ (کتاب الحضر والإباحۃ، ج:6، ص: 348، ناشر: سعید )-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
بشیر احمد جمعہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 87124کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات