گناہ و ناجائز

مخلوط ماحول والی شادی میں شرکت کا حکم

فتوی نمبر :
87320
| تاریخ :
2025-10-05
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

مخلوط ماحول والی شادی میں شرکت کا حکم

ہم بھائی سب ایک ہی گھر میں رہتے ہیں، ان شاء اللہ میرے سب سے بڑے بھائی کی شادی ہونے والی ہے،میں نے پوری کوشش کی کہ شادی میں مرد و عورت کے لیے الگ انتظام ہو، لیکن گھر والے اس پر راضی نہیں ہیں، تقریب میں مخلوط ماحول ہوگا، لیکن وہاں موسیقی یا ڈانس وغیرہ نہیں ہوگا،میرا سوال یہ ہے1: اگر ہال میں پارٹیشن کرا دیا جائے لیکن اسٹیج مشترکہ ہو، تو میں اسٹیج سے بچ کر ایک طرف الگ بیٹھ جاؤں گا، اور ہمارے ساتھ کوئی لڑکی بھی نہیں بیٹھے گی، بلکہ ممکن ہے کہ نظر بھی نہ آئے۔ صرف اسٹیج پر لڑکیاں بعد میں آ سکتی ہیں۔ کیا یہ صورت کافی ہوگی؟2:. جہاں تک لوگوں میں گناہ میں شامل ہونے کی بات ہے، تو میرے سب قریبی رشتہ دار جانتے ہیں کہ میں اس عمل کو ناپسند کرتا ہوں اور میں حوصلہ افزائی نہیں کرتا، میں صرف مجبوری کی وجہ سے شریک ہو رہا ہوں،3:اگر میں صرف کھانے تک وہاں بیٹھوں اور جیسے ہی رسومات شروع ہوں، فوراً نکل آؤں تو کیا یہ صورت بہتر ہوگی؟ یا مجھے کوئی اور طریقہ اختیار کرنا چاہیے؟ براہ کرم وضاحت فرمائیں،آخر میں یہ بھی عرض ہے کہ میری کم عمری کی وجہ سے میں پورے خاندان کے خلاف نہیں جا سکتا، اس لیے مجھے کسی نہ کسی طرح شامل ہونا پڑے گا،اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں درج کردہ تفصیل کے مطابق سائل کا اپنے خاندان والوں کو مرد و زن کے مخلوط مجالس قائم نہ کرنے کی ترغیب دینا قابل ستائش عمل ہے، اور امیدہے کہ اس سے خاندان میں موجود غیر شرعی امور کی اصلاح کا سلسلہ شروع ہو جائے، تاہم سائل کو حکمت وبصیرت کے ساتھ اصلاح کے اس عمل کو جاری رکھنا چاہیئے، اور کوئی ایسا طرزِعمل اختیار نہیں کرنا چاہیئےجو باہمی انتشار اور فساد کا سبب بنے۔
جبکہ شادی بیاہ کے موقع پر اگر ایک ہال میں پارٹیشن کر کے مرد وخواتین کیلئے علیحدہ علیحدہ نشستیں قائم کی جائیں، اور وہاں موسیقی، ناچ گانہ وغیرہ نہ ہو تو سائل کیلئے ایسی محفل میں شرکت کرنا جائز ہوگا،

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: ( دعی إلی ولیمۃ وثمۃ لعب أو غناء قعد وأکل ) لو المنکر فی المنزل، فلو علی المائدۃ لا ینبغی أن یقعد بل یخرج معرضا لقولہ تعالی: فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظالمین، ( فان قدر علی المنع فعل والا ) یقدر ( صبر إن لم یکن ممن یقتدی بہ فان کان ) مقتدی ( ولم یقدر علی المنع خرج ولم یقعد ) لان فیہ شین الدین والمحکی عن الامام کان قبل ان یصیر مقتدی بہ ( وان علم اولا ) بالعب ( لا یحضر اصلا ) سواء کان ممن یقتدی بہ أو لا لان حق الدعوۃ إنما یلزمہ بعد الحضور لا قبلہ ابن کمال الخ
وفی الشامیۃ تحت : ( قولہ دعی الی ولیمۃ ) ھی طعام العرس وقیل الولیمۃ (الی قولہ) وفی الختیار: ولیمۃ العرس سنۃ قدیمۃ ان لم یجبھا أثم لقولہ صلی اللہ علیہ وسلم من لم یجب الدعوۃ فقد عصی اللہ ورسولہ (الی قولہ) ومقتضاہ انھا سنۃ مؤکدۃ بخلاف غیرھا وصرح شراح الھدایۃ بأنھا قریبۃ من الواجب وفی التاترخانیۃ عن الینابیع لو دعی إلی دعوۃ فالواجب الاجابۃ ان لم یکن ھناک معصیۃ ولا بدعۃ والامتناع أسلم فی زماننا الا اذا علم یقینا أن لا بدعۃ ولا معصیۃ، ( الی قولہ )( قوله صبر) أي مع الإنكار بقلبه قال عليه الصلاة والسلام: من رأى منكم منكراً فليغيره بيده، فإن لم يستطع فبلسانه فإن لم يستطع فبقلبه، وذلك أضعف الإيمان أي أضعف أحواله في ذاته أي إنما يكون ذلك إذا اشتد ضعف الإيمان فلا يجد الناهي أعواناً على إزالة المنكر. ( کتاب الحظر الاباحۃ، ج6،ص 347، ط: سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
انعام اللہ حمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 87320کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات