گناہ و ناجائز

مخلوط تعلیم کا حکم

فتوی نمبر :
87849
| تاریخ :
0000-00-00
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

مخلوط تعلیم کا حکم

امریکہ کے بعض اسلامی اداروں میں جو درس نظامی کے نصاب کی پیروی کرتے ہیں، مرد اور خواتین طالب علم ایک ہی کلاس روم میں صرف جسمانی تقسیم سے الگ ہوکر پڑھتے ہیں۔ انسٹرکٹر (مرد) سامنے بیٹھا ہوتا ہے، دونوں طرف نظر آتا ہے، اور کلاس سے نکلنے پر، دونوں جنسیں مشترکہ جگہوں پر بات چیت کر سکتی ہیں یا راستے عبور کر سکتی ہیں۔ اس ماحول اور شریعت میں متعین حیا کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا فقہ حنفی کے نزدیک ایسا انتظام جائز ہے؟ اگر نہیں تو غیر مسلم ممالک میں اسلامی اداروں کے لیے صحیح اور محتاط انداز کیا ہونا چاہیے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ شریعتِ مطہرہ مخلوط تعلیمی نظام جس میں لڑکے اور لڑکیاں ایک ساتھ تعلیم حاصل کرتے ہیں بہت سے مفاسد کی وجہ سے ناجائز ہیں، خصوصا اسلامی نظام تعلیم پر مشتمل اداروں میں اوربھی پردہ شرعیہ کے تقاضوں کو پورا کرنے کا اہتمام لازم اور ضروری ہے،لہذا امریکہ میں اگر بالغ لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے مستقل طور پر ایک الگ درسگاہ اور ڈیپارٹمنٹ بنا کر تعلیم دینے کے نظام بنانے میں کوئی قانونی مشکلات نہ ہو تو ان اداروں کا سوال میں مذکور طریقہ اختیار کرنا قطعا مناسب نہیں بلکہ شرعی پردہ کہ اصول کے خلاف اور بہت سارے مفاسد کا سبب ہونے کی وجہ سے واجب الترک ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی سنن الترمذی: (حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن ابي الخير، عن عقبة بن عامر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " إياكم والدخول على النساء "، فقال رجل من الانصار: يا رسول الله، افرايت الحمو؟، قال: " الحمو الموت ". قال: وفي الباب، عن عمر، وجابر، وعمرو بن العاص. قال ابو عيسى: حديث عقبة بن عامر، حديث حسن صحيح، وإنما معنى كراهية الدخول على النساء على نحو ما روي، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: " لا يخلون رجل بامراة إلا كان ثالثهما الشيطان "، ومعنى قوله الحمو يقال: هو اخو الزوج كانه كره له ان يخلو بها)۔ (رقم الحدیث:1171)۔
وفی رد المحتار:(قولہ: زائدۃ) ببعدہ قولہ فی القنیۃ رامزا :ویجوز الکلام المباح مع امرءۃ اجنبیۃ وفی المجتبی رامزا: وفی الحدیث دلیل علی انہ لاباس ان یتکلم مع النساء بمالایحتاج الیہ ولیس ھٰذا من الخوض فی مالا یعنیہ انما ذالک فی کلام فیہ اثم فالظاھر انہ قول آخر او محمول علی العجوز ،تأ مل و تقدم فی شروط الصلاۃ ان صوت المرأۃ عورۃ علی راجح ومر الکلام فیہ فراجع الخ۔ (ج : 6،ص : 359،ط: سعید)۔
وفی رد المحتار: إلامن أجنبیة فلایحل مس وجهها وکفها وإن أمن الشهوة؛ لأنه أغلظ إلی قوله: وفي الأشباه: الخلوة بالأجنبیة حرام (الی قولہ) ثم رأیت في منیة المفتي مانصه: الخلوة بالأجنبیة مکروهة وإن کانت معها أخری کراهة تحریم الخ۔(ج: 5، ص: 260،ط: دار الفکر)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالھادی شعیب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 87849کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات