کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم انشورنس کروانا چاہتے ہیں، تو ہماری رہنمائی کریں کہ کون سی انشورنس جائز ہے اور کون سی حرام؟ کیونکہ پاک قطر تکافل والے کہتے ہیں کہ ہم سے انشورنس کرواؤ، ہم اسلامی طریقے سے کرتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں یہ علماء کرام کے سرپرستی میں چل رہی ہے۔ اور مفتی تقی صاحب نے پاک قطر کے معاملات کے کو دیکھتے ہوئے جائز ہونے کا فتوی دیا ہے۔ کیا یہ ٹھیک ہے۔ اور اسٹیٹ لائف انشورنس کیسی ہے؟ کیا ان کی انشورنس حرام ہے؟ ان کے مدلَّل جواب ارشاد فرمائیں اور جو انشورنس جائز ہیں۔ ان کے نام بھی بتا دیں کہ ان سے انشورنس کروانا جائز ہے۔
پاک قطر فیملی تکافل لمیٹڈ کے جنرل اور فیملی تکافل پلان کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا طریقہ کار باہمی تعاون و تناصر اور عقد تبرُّع پر مبنی ہوتا ہے، اس میں ربا و قمار اور غرر شامل نہیں ہوتا، اس لئے مذکورہ کمپنی کی پالیسی لینے کی شرعاً گنجائش معلوم ہوتی ہے، جبکہ انشورنس خواہ کوئی بھی کمپنی کروائے، وہ چونکہ ربا و قمار اور غرر پر مشتمل ہوتا ہے، اس لئے انشورنس کی کوئی بھی پالیسی خرید نا ناجائز و حرام ہے، جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے۔
قال الله تعالى : {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ } [المائدة: 90]
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0