السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ! مفتی صاحب ! ایسی گیم جس میں خود سے پیسے لگا کر کھیلیں یہ تو جوا ہے، جائز نہیں ہے، لیکن اگر خود سے پیسے نہ لگائے، بلکہ گیم کے اندر ہی روزانہ کی بنیاد پر کچھ رقم بطور بونس ملتی ہو تو وہی رقم لگائی جائے، پھر گیم کھیلیں تو کیا یہ جائز ہے ؟ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہو کہ اگر کوئی گیم فی نفسہ جائزہواوراس میں اپنی جیب سے کوئی رقم لگانی نہ پڑے،جو رقم استعمال ہو وہ صرف گیم بنانے والوں کی طرف سے بطور بونس دی جاتی ہو،اور مقابلہ ایسا ہو کہ کسی کھلاڑی کی حقیقی رقم کا ضیاع یا اضافہ نہ ہو،اور نہ ہی یہ بونس نقد رقم، موبائل بیلنس، یا حقیقی مالی فائدہ میں تبدیل ہو سکتا ہو،تو ایسی گیم کھیلنے میں اگرچہ قمار(جوا) وغیرہ کی خرابی نہیں پائی جاتی اس لیے اس کے کھیلنے کی گنجائش ہوسکتی ہے ۔ لیکن اس کے باوجود چونکہ اس قسم کی لایعنی گیم جن میں بہت زیادہ انہماک تضیع اوقات کے ساتھ نماز اور دیگر عبادات میں خلل واقع ہونے کا باعث بنتاہےاور اس کھیل میں کوئی دینی یا دنیوی منفعت مثلاً جسمانی ورزش وغیرہ بھی نہیں پائی جاتی، بلکہ محض لہوولعب کے لیے کھیلاجاتاہے ، جو کہ ایک مسلمان کے شایانِ شان نہیں ، لہذا پیسے لگائے بغیربھی ایسی گیم کھیلنے سے اجتناب کرناچاہیے، لیکن اگربونس کی رقم کو حقیقی مال میں بدلا جا سکتا ہو، یاگیم کے اندر جیت/ہار سے حقیقی مالی فائدہ ملتا ہو، یابونس کے بدلے رقم خرچ کرنا لازم ہو، یاکسی درجہ میں پیسے لگا کر اپنی جیت کے امکانات بڑھائے جاسکتے ہوں،توپھر یہ قمار (جوا) میں داخل ہونے کی وجہ سے ناجائزاورحرام ہوگا،جس سے بہرصورت احتراز لازم ہے۔
کما قال اللہ تعالیٰ : یا أيها الذين آمنوا إنما الخمر و الميسر و الأنصاب و الأزلام رجس من عمل الشيطان فاجتنبوه لعلكم تفلحون۔الآیة [المائدة:90]۔
و فی تکملة فتح الملهم : فالضابط في هذا الباب عند مشایخنا الحنفیۃ المستفاد من اصولھم واقوالھم أن اللهو المجرد الذي لا طائل تحته ، و ليس له غرض صحيح مفيد في المعاش و لا المعاد حرام أو مكروه تحريماً ، وھذا امر مجمع علیہ فی الامۃ ، متفق علیہ بین الامۃ و ما كان فيه غرض و مصلحة دينية أو دنيوية ، فإن ورد النهي عنه من الكتاب أو السنة (کما فی النرد شیر) كان حراماً أو مكروهاً تحريماً ، (إلی قوله) و أما مالم يرد فيه النهي عن الشارع و فيه فائدة و مصلحة للناس ، فهو بالنظر الفقهي علي نوعين ، الأول ما شهدت التجربة بأن ضرره أعظم من نفعه و مفاسده أغلب علي منافعه ، و أنه من اشتغل به ألهاه عن ذكر الله وحده و عن الصلاة و المساجد التحق ذلك بالمنهي عنه لاشتراك العلة فكان حراماً أو مكروهاً ، و الثاني ماليس كذالك فهو أيضاً إن اشتغل به بنية التلهي و التلاعب فهو مكروه وإن اشتغل به لتحصيل تلك المنفعة وبنية استجلاب المصلحة فهو مباح، (الی قوله) وعلى هذا الأصل فالألعاب التي يقصد بها رياضة الأبدان أو الأذهان جائزة في نفسها، ما لم تشتمل على معصية أخرى، وما لم يؤد الانهماك فيها إلى الإخلال بواجب الإنسان في دينه ودنياه اھ (باب تحریم اللعب بالنرد شیر ، ج: 4 ، ص: 435 ، ط: دارالعلوم کراچی)۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1