سود

گیم میں بونس کے طور پر ملی ہوئی رقم سے جوا کھیلنے کا حکم

فتوی نمبر :
88276
| تاریخ :
2025-10-23
معاملات / مالی معاوضات / سود

گیم میں بونس کے طور پر ملی ہوئی رقم سے جوا کھیلنے کا حکم

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ! مفتی صاحب ! ایسی گیم جس میں خود سے پیسے لگا کر کھیلیں یہ تو جوا ہے، جائز نہیں ہے، لیکن اگر خود سے پیسے نہ لگائے، بلکہ گیم کے اندر ہی روزانہ کی بنیاد پر کچھ رقم بطور بونس ملتی ہو تو وہی رقم لگائی جائے، پھر گیم کھیلیں تو کیا یہ جائز ہے ؟ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ اگر کوئی گیم فی نفسہ جائزہواوراس میں اپنی جیب سے کوئی رقم لگانی نہ پڑے،جو رقم استعمال ہو وہ صرف گیم بنانے والوں کی طرف سے بطور بونس دی جاتی ہو،اور مقابلہ ایسا ہو کہ کسی کھلاڑی کی حقیقی رقم کا ضیاع یا اضافہ نہ ہو،اور نہ ہی یہ بونس نقد رقم، موبائل بیلنس، یا حقیقی مالی فائدہ میں تبدیل ہو سکتا ہو،تو ایسی گیم کھیلنے میں اگرچہ قمار(جوا) وغیرہ کی خرابی نہیں پائی جاتی اس لیے اس کے کھیلنے کی گنجائش ہوسکتی ہے ۔ لیکن اس کے باوجود چونکہ اس قسم کی لایعنی گیم جن میں بہت زیادہ انہماک تضیع اوقات کے ساتھ نماز اور دیگر عبادات میں خلل واقع ہونے کا باعث بنتاہےاور اس کھیل میں کوئی دینی یا دنیوی منفعت مثلاً جسمانی ورزش وغیرہ بھی نہیں پائی جاتی، بلکہ محض لہوولعب کے لیے کھیلاجاتاہے ، جو کہ ایک مسلمان کے شایانِ شان نہیں ، لہذا پیسے لگائے بغیربھی ایسی گیم کھیلنے سے اجتناب کرناچاہیے، لیکن اگربونس کی رقم کو حقیقی مال میں بدلا جا سکتا ہو، یاگیم کے اندر جیت/ہار سے حقیقی مالی فائدہ ملتا ہو، یابونس کے بدلے رقم خرچ کرنا لازم ہو، یاکسی درجہ میں پیسے لگا کر اپنی جیت کے امکانات بڑھائے جاسکتے ہوں،توپھر یہ قمار (جوا) میں داخل ہونے کی وجہ سے ناجائزاورحرام ہوگا،جس سے بہرصورت احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما قال اللہ تعالیٰ : یا أيها الذين آمنوا إنما الخمر و الميسر و الأنصاب و الأزلام رجس من عمل الشيطان فاجتنبوه لعلكم تفلحون۔الآیة [المائدة:90]۔
و فی تکملة فتح الملهم : فالضابط في هذا الباب عند مشایخنا الحنفیۃ المستفاد من اصولھم واقوالھم أن اللهو المجرد الذي لا طائل تحته ، و ليس له غرض صحيح مفيد في المعاش و لا المعاد حرام أو مكروه تحريماً ، وھذا امر مجمع علیہ فی الامۃ ، متفق علیہ بین الامۃ و ما كان فيه غرض و مصلحة دينية أو دنيوية ، فإن ورد النهي عنه من الكتاب أو السنة (کما فی النرد شیر) كان حراماً أو مكروهاً تحريماً ، (إلی قوله) و أما مالم يرد فيه النهي عن الشارع و فيه فائدة و مصلحة للناس ، فهو بالنظر الفقهي علي نوعين ، الأول ما شهدت التجربة بأن ضرره أعظم من نفعه و مفاسده أغلب علي منافعه ، و أنه من اشتغل به ألهاه عن ذكر الله وحده و عن الصلاة و المساجد التحق ذلك بالمنهي عنه لاشتراك العلة فكان حراماً أو مكروهاً ، و الثاني ماليس كذالك فهو أيضاً إن اشتغل به بنية التلهي و التلاعب فهو مكروه وإن اشتغل به لتحصيل تلك المنفعة وبنية استجلاب المصلحة فهو مباح، (الی قوله) وعلى هذا الأصل فالألعاب التي يقصد بها رياضة الأبدان أو الأذهان جائزة في نفسها، ما لم تشتمل على معصية أخرى، وما لم يؤد الانهماك فيها إلى الإخلال بواجب الإنسان في دينه ودنياه اھ (باب تحریم اللعب بالنرد شیر ، ج: 4 ، ص: 435 ، ط: دارالعلوم کراچی)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سرتاج خان ملی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 88276کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • موبائل فون میں ایڈوانس لون بیلنس Mobile Advance Loan Balance پر سود کا مسئلہ

    یونیکوڈ   اسکین   سود 4
  • جی پی فنڈ (GP Fund) پرملنے والی اضافی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • اکاونٹ کی استعمال کی شرط لگانے سے ملنے والی فری سہولت کا استعمال کرنے کی گنجائش ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   سود 0
  • کشف فاؤنڈیشن کی کمائی کا حکم

    یونیکوڈ   سود 1
  • ہاؤس بلڈنگ فائنانس والوں سے قرضہ لینے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   سود 1
  • حرام مال کا حکم - کیا غریب کیلئے لینا جائز ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   سود 3
  • ایزی کیش کے نام سے قرض لینے کا حکم

    یونیکوڈ   سود 4
  • کیا سودی رقم میں مدرسہ میں دی جاسکتی ہے؟

    یونیکوڈ   سود 1
  • سودی بینک میں pls اکاونٹ کھلوانا

    یونیکوڈ   سود 0
  • بینک سے سود کی رقم کس مصرف میں خرچ کرسکتا ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
  • اگر ادارے میں سود سے بچنے کا اہتمام نہیں کیا جاتا اسمیں نوکری کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • سودی اداروں میں رقم رکھنے کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • قرآن و حدیث کی روشنی میں”ربوا“ کی حقیقت کیا ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
  • سود پر قرض لینے والے شخص کی اولاد کے لئے حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • کریڈٹ کارڈکی پراسنگ فیس کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • قرض پر صرف اس صورت میں اضافی رقم لینا کہ جب مقررہ وقت پر ادا نہ کیا جائے

    یونیکوڈ   سود 0
  • غیر مسلم ممالک سودی معاملہ کرنا

    یونیکوڈ   سود 0
  • قرضہ اتارنے کیلئے سودی قرض لینا

    یونیکوڈ   سود 0
  • پھٹے ہوئے نوٹ کو آدھی قیمت میں فروخت کرنا

    یونیکوڈ   سود 1
  • پراویڈنٹ فنڈ پر سود کے عنوان سے ملنے والی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا

    یونیکوڈ   سود 1
  • مالکِ مکان کا سودے سے پیچھے ہٹنےپر ،خریدار کا اس سےبیعانہ کے ساتھ اضافی رقم لینا

    یونیکوڈ   سود 0
  • ایزی پیسہ میں ملنے والے منافع کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • کیا صرف سود وصول کرنا حرام ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
  • کیا سود دینےسے آمدن حرام ہوجاتی ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
Related Topics متعلقه موضوعات